لکھنے کی حاجت نہیں مگر سب سے بڑھ کر حضرت مسیح کا اپنا اقرار ملاحظہ کے لائق ہے وہ فرماتے ہیں سب حکموں میں اوّل یہ ہے کہ اے اسرائیل سُن وہ خداوند جو ہمارا خدا ہے ایک ہی خدا ہے پھر فرماتے ہیں حیات ابدی یہ ہے کہ وے تُجھ کو اکیلا سچا خدا اور یسوع مسیح کو جسے تم نے بھیجا ہے جانیں ۔ یوحنّا ۳۱۷ ۔
اور بھیجا کا لفظ توریت کے کئی مقام میں انھیں معنوں پر بولا گیا ہے کہ جب خدا تعالیٰ کسی اپنے بندہ کو مامور کر کے اور اپنا نبی ٹھہرا کر بھیجتا ہے تواُسوقت کہا جاتا ہے کہ یہ وہ بندہ بھیجا گیا ہے اگر ڈاکٹر صاحب یہ بھیجا گیا کا لفظ بجز اِس معنے کے جہاں نبی کی نسبت بولا جاتا ہے مقام متنازعہ فیہ کے ماسوا کسی اور جگہ دوسرے معنوں پر ثابت کر دیں تو شرط کے طور پر جو چاہیں ہم سے وصول کر سکتے ہیں ۔ ڈاکٹر صاحب پر واضح رہے کہ بھیجا گیا کالفظ اور ایسا ہی مخصوص کا لفظ انسان کے بارہ میں آیا ہے یہ سراسر تحکّم ہے کہ اب اسکے اور معنے کئے جاویں ماسوا اس کے حضرت مسیح کی الوہیت کے بارہ میں اگر حضرات عیسائی صاحبوں کا اصول ایمانیہ میں اتفاق ہوتا اور کوئی قوم اور فرقہ اُس اتفاق سے باہر نہ ہوتاتو تب بھی کسی قدر ناز کرنے کی جگہ تھی مگر اب تو اتنی بات بھی ڈاکٹر صاحب کے ہاتھ میں نہیں ۔ ڈاکٹر صاحب فرماویں کہ کیا آپ کے مختلف فرقوں میں سے یونی ٹیرین کا فرقہ حضرت مسیح کو خدا جانتا ہے کیا وہ فرقہ اسی انجیل سے تمسک نہیں کرتا جس سے آپ کر رہے ہیں ۔ کیا وہ فرقہ ان پیشگوئیوں سے بے خبر ہے جنکی آپکو خبر ہے ۔ پھر جس حالت میں ایک طرف تو حضرت مسیح اپنے کفر کی بریّت ثابت کرنے کے لئے۔ یوحّنا باب ۱۰ میں اپنے تئیں خدا اطلاق پانے میں دوسروں کا ہمرنگ قرار دیں اور اپنے تئیں لا علم بھی قرار دیں کہ مجھے قیامت کی کچھ خبر نہیں کہ کب آئے گی اور یہ بھی روا نہ رکھیں کہ انکو کوئی نیک کہے اور جابجا یہ فرماویں کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجا گیا ہوں اور حواریوں کو یہ نصیحت دیں کہ پیشگوئیاں وغیرہ اُمور کے وہی معنےؔ کرو جو یہودی کیا کرتے ہیں اور اُنکی باتوں کو سنو اور مانو اور پھر ایک طرف مسیح کے معجزات بھی