اور جب ہم نے معلوم کر لیا پیغام جووہ ہمیں پہنچاتا ہے نہ اس کا جاں کے پر اس کے مالک اور اپنے مالک کا جان کے شکر اور ادب سے تسلیم کرنا چاہیئے۔ پیشگوئی جب نازل ہوتی ہے تو تسلیم کی جاتی ہے اور جب پوری ہوتو درجہؔ تکمیل تک پہنچتی ہے۔ جو باتیں حال وارد نہیں ہوئیں ان میں سوائے اللہ تعالیٰ کے کون تمیز کرسکتا ہے۔ اب جناب من دیکھئے گا۔ عہد عتیق میں کئی نبی اللہ تعالیٰ کی اطلاع دیتے ہیں ازجانب اللہ کے کہ یہ یہ باتیں ہوں گی۔ عہد جدید جو وہ بھی کلام برحق ہے اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل ہوا ہے کئی اور تحریر فرماتے ہیں کہ یہ ہدایت خدا کی کہ وہ جو میرے فلانے فلانے بندے فلانے فلانے موقعہ پر کہہ گئے تھے آج اور اس موقعہ پر پورا ہوتا ہے۔ صاحب من ناگزیر ہے کہ ہم مانیں۔ گریزخلاف فطرت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی شہادت اور فرمان سب شہادتوں سے بڑھ کر ہے۔ جناب کی خدمت میں تین فہرست پیش کی گئی تھیں جن میں پرانے عہد نامہ کی پیشگوئیاں معہ حوالہ جات نئے عہد نامہ کے جہاں وہ پوری ہوتی ہیں لکھی گئی تھیں چھ سو سات سو آٹھ سو برس پیشتر جو اللہ کے نبی کہہ گئے نقطہ نقطہ پورے ہوتے دیکھے۔ مرزائے من اگر اب بھی دعویٰ مانیں تو سوائے ضد اور تعصب کے کچھ نہیں۔ آپ نے یہ بھی استفسار کیا تھا کہ آیاالمسیح نے خود کبھی اپنی ہی زبان مبارک سے ان پیشگوئیوں میں سے اپنے حق میں تسلیم کیا ہے یا نہیں۔ جناب من نہ ایک دفعہ نہ دو دفعہ بلکہ کئی دفعہ اور نہ ایک کو اور نہ دو کو بلکہ سب کو۔ دیکھئے متی کا ۲۲ باب آیت اکتالیس سے ۴۶ تک۔ یوحنا کے۵ ۳۹متی باب ۱۱۔ ۱۰ بالمقابل ملاکی نبی ۳ باب ۱ ۔لوقا باب ۲۴۔ ۲۷ متی باب ۶ ۔ ۱۷ چہارم۔ یوحنا باب۱۰۔ ۳۵ کے بارہ میں جناب نے استفسار فرمایا۔ بارہا خدمت میں عرض کی گئی۔ نہ معلوم کیا ماجرا ہے کہ خیال شریف میں بات نہیں آئی۔ آخری التماس میں یہ کرتا ہوں۔ اس آیت کو آپ اس لئے گرفت کرتے ہیں کہ اس میں الوہیت کا انکار ہے برعکس اس کے المسیح اس موقعہ پر اپنی الوہیت کا بہت ہی پختہ دعویٰ کرتا ہے۔ گو یہودیوں کو آپ یہ فرماتا ہے۔ ابتدا میں کلام تھا کلام خدا کے ساتھ تھا کلام خدا تھا۔ کلام مجسم ہوا وہ لوگ جن کے پاس کلام اللہ پہنچا اس کلام کی برکت سے الٰہی ہونے کے قابل ٹھہرائے گئے گویا کلام کی پیروی کی جاکر کے یہ برکت ان کو مل گئی۔