جن کے پاس کلام پہنچا اور ان کا اتنا درجہ ہوگیا تو تم کلام مجسم کو کہتے ہو کہ تو کفر بکتا ہے حیف تمہاری عقلوں پر۔ وہ خاص لفظیں جو غور کے لائق ہیں دو ہیں مخصوص کیا اور بھیجا۔ آپ نے تو چند عبارات لکھائی تھیں کہ ان میں بھی یہ ہیں۔ لیکن تلاش کرنے سے پتہ ندارد آپ کے حوالہ غلط نکلے یونانی بھی جیسے آپ کی خدمت میں عرضؔ کردی۔ آپ نے فرمایا بہت اور حوالہ ہیں اطلاع نہ بخشی کسی کی۔ اس پر غور کریئے۔ بھیجا مسیح کا بھیجا جانا اور ہی طرح کا تھا۔ یوحنا باب ۲۸ ۱۶ باپ میں سے نکلا اور دنیا میں آیا ہوں۔ اگر اس میں الوہیت کا انکار ہے تو آپ فرمایئے کہ کسی بندہ نے کہا کہ’’میں باپ میں سے نکلا اور پھر باپ پاس جاتا ہوں‘‘۔ جناب کا یہ فرمانا کہ المسیح کو بھیجا ہے بجا نہیں۔ ہمارا حق نہیں کہنا کہ یوں ہو یا یوں۔ جو باتیں ہوچکی ہیں ان کے موجب فیصلہ کرنا ہے ورنہ ہم صاف کہہ دیں کہ ہم اللہ تعالیٰ اور ان کے بزرگ نبیوں سے دانا ہیں ہم ہوتے تو یوں کہتے۔ یہ دانائی نہیں یہ افترا ہے سکندر اعظم کے ایک جرنیل تھے بنام پارمینو۔ جب ایران کو سکندر اعظم نے فتح کر لیا پارمینو کہنے لگے میں اگر سکندر اعظم ہوتا تو دارا کی بیٹی کو اپنی شادی میں لے کے اس ملک سے باہر نہ جاتا۔ سکندر اعظم نے فرمایا کہ اگر میں پارمینیو ہوتا تو میں بھی ایسا ہی کرتا اور چونکہ میں سکندر اعظم ہوں نہ پارمینیو میں کچھ اور کروں گا۔ لہٰذا چونکہ اس وقت المسیح تھے نہ کہ مرزا صاحب۔ اور یاد رکھئے کہ فقط یہ ہی ایک گفتگو یہودیوں کی نہیں ہوئی کہ سب کچھ اسی وقت ہو جاوے تین برس تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ پنجم۵۔ اگر مسیح خالق تھے تو انہوں نے کیا بنایا۔ موجب فتویٰ الٰہی کے یوحنا باب اول جواب اس کا ہے سب کچھ۔ اگر اس فتوے سے مرزا صاحب گریز کرتے ہیں تو انجیل کو ہی رد کر دیویں تو اس کو ایک کتاب انسانی و نفسانی و جھوٹوں کی بھری ٹھہرا دیویں۔ ششم۶۔ جب آپ انسان بنے تو صفات اللہ کہاں گئی۔ یہ مرزا صاحب کا سوال ہے جواب بہت مختصر اور چھوٹا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ تاابد مبارک تھے اور ہیں۔ انہوں نے