اہل ؔ ہنود کی جو کتابیں ہیں ان کا ثبوت بھی قابل اعتبار نہ گنا جائے۔ مرزا صاحب یہ کیا آپ فرماتے ہیں انہوں نے کون سے کارِ الٰہی کئے اور ان کا کونسا دعویٰ پایہ ثبوت تک پہنچا ہوا ہے اور ایک اہل کتاب کی جو مجلس ہے اس میں ان کی نظیروں کی ضرورت کیا ہے۔ آیا عقلاً آپ المسیح اور رامچندر اور کرشن میں کوئی تمیز نہیں کرتے اور جلالی انجیل کو مقابل اہل ہنود کی کتابوں کے جانتے ہیں۔ میرے خیال میں ایک نبی اللہ برحق کو اور اہل کتاب کے مسئلوں کو ُ بت پرستوں اور بت پرستوں کی کتابوں سے تشبیہ دینا ہی گناہ ہے اور اگر آپ ایسی تشبیہ دیویں تو اس کا جواب بھی آپ اللہ تعالیٰ کو دیویں۔ اہل ہنود کی جن کتابوں کا آپ نے ذکر کیا وہ تو تواریخی طور پر بھی درست نہیں ہیں۔اب ہم کس بات کو مد نظر رکھ کر زیادہ تر امتیاز کریں۔ آپ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ چونکہ بہت شخصوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ہم خدا ہیں اور ان کے یہ دعوے الوہیت کے باطل نکلے۔ لہذا مسیح نے بھی یہ دعویٰ کیا ہے لہٰذا وہ بھی باطل ہے۔ جناب من یہ کیا فرماتے ہیں۔ چونکہ دس روپیہ میں نوکھوٹے ہوں آیا دسواں بھی ضرور کھوٹا ہوگا؟ اس طرح کا فتویٰ نہیں دیا جاسکتا موقعہ دیکھ کر اور خصوصیتیں جو ہیں سمجھ کر فتویٰ دینا چاہیئے۔ چونکہ جھوٹے دعوے ہیں آپ پر روشن ہوگا کہ سچا بھی کوئی ہوگا اگر سچے روپے نہ ہوتے تو نقلی بھی نہ ہوتے سوم ہم نے کئی پیشین گوئیاں مرزا صاحب کی خدمت میں عرض کر دی ہیں اور ان پر آپکا یہ اعتراض ہے کہ آپ دعوے کے ثبوت میں دعوے ہی پیش کرتے ہیں کیونکہ یہ پیشین گوئیاں جس کا حوالہ دیتے ہو خود دعوے ہیں اور دعویٰ کا دعویٰ سے کیونکر ثبوت ہوسکتاہے۔ جناب من یہ آپ کی عجب غلط فہمی ہے۔ پیشگوئیاں اللہ تعالیٰ کی کسی صورت میں دعویٰ نہیں گنی جاسکتیں بلکہ صداقتیں ہیں اور ہم ان کو دعوے کے طور نہیں تسلیم کرتے لیکن اپنے مالک کے فرمان کے طور قبول کرتے ہیں۔ کسی فرد بشر کی جرأت ہے کہ اپنے پیدا کنندہ اور پرورش کرنے والے کے فرمان کو دعوے کہے اور ان کو پرکھنا بھی ہمارا حق نہیں کیونکہ اگر ایک پیشگوئی ہے تو وہ علاقہ رکھتی ہے زمانہ استقبال سے نہ کہ زمانہ حال سے اب جس منزل تک ہم پہنچتے ہی نہیں ہیں وہاں کی باتوں کا ہم فیصلہ ہی کیا کریں۔ ہمارا حق ہے کہ نبی کو پرکھیں اورتسلی اپنی کرا لیں کہ یہ بالضرور نبی اللہ ہے