۔۔۱؂(س ۱۰ ر۱۱) یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کہا بعض یہود نے کہ عزیر خدا کا بیٹا ہے اور کہا نصاریٰ نے مسیح خدا کا بیٹا ہے یہ ان کے منہ کی باتیں ہیں جن کا کوئی بھی ثبوت نہیں ریس کرنے لگے ان لوگوں کی جو پہلے اس سے کافر ہوچکے یعنی جو انسانوں کو خدا اور خدا کے بیٹے قرار دے چکے یہ ہلاک کئے جائیں کیسے یہ تعلیم سے پھر گئے۔ انہوں نے اپنے عالموں کو اپنے درویشوں کو اللہ کے سوا پروردگار ٹھہرا لیا۔ اور ایسا ہی مسیح ابن مریم کو حالانکہ ہم نے یہ حکم کیا تھا کہ تم کسی کی بندگی نہ کرومگر ایک کی جو خدا ہے جس کاکوئی شریک نہیں۔ چاہتے ہیں کہ اپنے مونہوں کی پھونکوں سے حق کو بجھا ویں اور اللہ تعالیٰ باز نہیں رہے گا جب تک اپنے نور کو پورا نہ کرے اگرچہ کافر ناخوش ہوں وہ وہی خدا ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا تا وہ دین سب دینوں پر غالب ہو جائے۔ اگرچہ مشرک ناخوش ہوں‘‘۔ اب دیکھئے کہ ان آیات کریمہ میں اللہ جلّ شانہٗ نے صاف طور پر فرمایا ہے کہ عیسائیوں سے پہلے یہودی یعنی بعض یہودی بھی عزیر کو ابن اللہ قرار دے چکے اور نہ صرف وہی بلکہ مقدم زمانہ کے کافر بھی اپنے پیشواؤں اور اپنے اماموں کو یہی منصب دے چکے پھر ان کے پاس اس بات پر کیا دلیل ہے کہ وہ لوگ اپنے اماموں کو خدا ٹھہرانے میں جھوٹے تھے اور یہ سچے ہیں۔ اور پھر اس بات کی طرف اشارہ فرماتا ہے کہ یہی خرابیاں دنیا میں پڑ گئی تھیں جن کی اصلاح کے لئے اس رسول کو بھیجا گیا تا کامل تعلیم کے ساتھ ان خرابیوں کو دور کرے کیونکہ اگر یہودیوں کے ہاتھ میں کوئی کامل تعلیم ہوتی۔ تو وہ برخلاف توریت کے اپنے عالموں اور درویشوں کو ہرگز خدا نہ ٹھہراتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ کامل تعلیم کے محتاج تھے۔ جیسا کہ حضرت مسیحؑ نے بھی اس بات کا اقرار کیا کہ ابھی بہت سی باتیں تعلیم کی باقی ہیں کہ