تم ان کی برداشت نہیں کرسکتے یعنی جب وہ یعنی روح حق آوے تو وہ تمہیں ساری سچائی کی راہ بتادے گی اس لئے کہ وہ اپنی نہ کہے گی لیکن وہ جو کچھ سنے گی وہ کہے گی اور تمہیں آئندہ کی خبریں دے گی۔ حضرات عیسائی صاحبان اس جگہ روح حق سے روح القدس مراد لیتے ہیں اور اس طرف توجہ نہیں فرماتے کہ روح القدس تو ان کے اصول کے موافق خدا ہے تو پھر وہ کس سے سنے گا۔ حالانکہ لفظ پیشگوئی کے یہ ہیں کہ جو کچھ وہ سنے گی وہ کہے گی۔ اب پھر ہم اس پہلے مضمون کی طرف رجوع کرکے کہتے ہیں کہ ڈپٹی صاحب موصوف نے تو حضرت مسیح کے خدا ہونے پر کوئی معقولی دلیل انجیل سے پیش نہ کی۔ لیکن ہم ایک اور دلیل قرآن کریم سے پیش کر دیتے ہیں کہ اللہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے ۱؂(پارہ ۲۱ رکوع ۷) یعنی اللہ وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا۔ پھر تمہیں رزق دیا پھر تمہیں مارے گا پھر زندہ کرے گا۔ کیا تمہارے معبودوں میں سے جو انسانوں میں سے ہیں کوئی ایسا کرسکتا ہے۔ پاک ہے خدا ان بہتانوں سے جو مشرک لوگ اس پر لگا رہے ہیں۔ پھر فرماتا ہے۔ کیا انہوں نے خدا تعالیٰ کے شریک ایسی صفات کے ٹھہرا رکھے ہیں کہ جیسے خدا تعالیٰ خالق ہے وہ بھی خالق ہیں تا اس دلیل سے انہوں نے ان کو خدا مان لیا۔ ان کو کہہ دے کہ ثابت شدہ یہی امر ہے کہ اللہ تعالیٰ خالق ہرایک چیز کا ہے اور وہی اکیلا ہرایک چیز پر غالب اور قاہر ہے۔ اس قرآنی دلیل کے موافق ڈپٹی عبداللہ آتھم صاحب سے میں نے دریافت کیا تھا کہ اگر آپ صاحبوں کی نظر میں درحقیقت حضرت مسیحؑ خدا ہیں تو ان کی خالقیت وغیرہؔ صفات الوہیت کا ثبوت دیجئے۔ کیونکہ یہ تو نہیں ہوسکتا کہ خدا اپنی صفات کو آسمان پر چھوڑ کر نرا مجرد اور برہنہ ہوکر دنیا میں آجائے اس کی صفات اس کی ذات سے لازم غیر منفک ہیں اور کبھی تعطل جائز نہیں۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ خدا ہوکر پھر خدائی کی صفات کاملہ ظاہر کرنے