پیش کر دی ہیں اور کسی دوسرے مقام میں یہودیوں کے اس بار بار کے اعتراض کوا س طرح پر اٹھا دیا ہے کہ میں درحقیقت خدا اور خدا کا بیٹا ہوں اور یہ پیشگوئیاں میرے حق میں وارد ہیں اور خدائی کا ثبوت بھی اپنے افعال سے دکھلا دیا ہے تا اس متنازعہ فیہ پیشگوئی سے ان کوَ مخلصی حاصل ہو جاتی تو برائے مہربانی وہ مقام پیش کریں۔ اب کسی طور سے آپ اس مقام کو چھپا نہیں سکتے۔ اور آپ کی دوسری تاویلات تمام رکیک ہیں۔ سچ یہی بات ہے کہ مخصوص کا لفظ اور بھیجا گیا کا لفظ عہد عتیق میں اور نیز جدید میں عام طور پر استعمال پایا ہے۔ آپ پر یہ ایک ہمارا قرضہ ہے جو مجھے ادا ہوتا نظر نہیں آتا جو آپ نے حضرت مسیحؑ کی خدائی کا تو ذکر کیا لیکن ان کی خدائی کا معقولی طور پر کچھ بھی ثبوت نہ دے سکے اور دوسرے خداؤں کی نسبت اس میں کچھ مابہ الامتیاز عقلی طور پر قائم نہ کرسکے بھلا آپ فرماویں کہؔ عقلی طور پر اس بات پر کیا دلیل ہے کہ راجہ رام چندر اور راجہ کرشن اور بدھ یہ خدا نہ ہوں اور حضرت مسیحؑ خدا ہوں۔ اور مناسب ہے کہ اب بعد اس کے آپ بار بار ان پیشگوئیوں کا نام نہ لیں جوخود حضرت مسیحؑ کے طرز بیان سے رد ہوچکی ہیں اور حضرت مسیحؑ ضرورت کے وقت ان کو اپنے کام میں نہیں لائے بیشک ہر ایک دانا اس بات کو سمجھتا ہے کہ جب وہ کافر ٹھہرائے گئے اور ان پر حملہ کیا گیا اور ان پر پتھراؤ شروع ہوا تو ان کو اس وقت اپنی خدائی کے ثابت کرنے کے لئے ان پیشگوئیوں کی اگر وہ درحقیقت حضرت مسیحؑ کے حق میں تھیں اور ان کی خدائی پر گواہی دیتی تھیں سخت ضرورت پڑی تھی۔ کیونکہ اس وقت جان جانے کا اندیشہ تھا اور کافر تو قرار پا چکے تھے تو پھر ایسی ضروری اور کار آمد پیشگوئیاں کس دن کے لئے رکھی گئی تھیں کیوں نہیں پیش کیں۔ کیا آپ نے اس کا کوئی کبھی جواب دیا۔ پھر ہم ان پیشگوئیوں کو کیا کریں اور کس عزت کی نگاہ سے دیکھیں اور کیونکر حضرت مسیحؑ کو دنیا کے دوسرے مصنوعی خداؤں سے الگ کرلیں۔اللہ جلّ شانہٗقرآن کریم میں فرماتا ہے