لوازم اپنے اندر رکھتا ہے کسی طرح خدا نہیں ٹھہر سکتا۔ اور نہ کبھی یہ ثابت ہوا کہ دُنیا میں خدا یا خدا کا بیٹا بھی نبیوں کی طرح وعظ اور اصلاح خلق کیلئے آیا ہومگر افسوس کہ ڈپٹی صاحب موصوف نے اس کا کوئی جواب شافی نہ دیا ۔ میری طرف سے یہ پہلے شرط ہوچکی تھی کہ ہم فریقین دعوےٰ بھی اپنی کتاب الہامی کا پیش کریں گے اور دلائل معقولی بھی اسی کتاب الہامی کی سُنائی جائیں گی۔ مگر ڈپٹی صاحب موصوف نے بجائے اِسکے کہ کوئی معقولی دلیل حضرت عیسٰی ؑ کے خدا یا خدا کا بیٹا ہونے پر پیش کرتے دعوے پر دعوے کرتے گئے اور بڑا ناز اِن کو اِن چند پیشگوئیوں پر ہے جو اُنہوں نے عبرانیوں کےؔ خطوط اور بعض مقامات بائیبل سے نکال کر پیش کئے ہیں مگر افسوس کہ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ ایسی پیشگوئیاں جب تک ثابت نہ کی جاویں کہ درحقیقت وہ صحیح ہیں اور ان کا مصداق حضرت مسیحؑ نے اپنے تئیں ٹھہرالیا ہے اور اس پر دلائل عقلی دی ہیں تب تک وہ کسی طور سے دلائل کے طور پر پیش نہیں ہو سکتیں بلکہ وہ بھی ڈپٹی صاحب کے دعاوی ہیں جو محتاج ثبوت ہیں ۔ ان دعاوی کے سوائے ڈپٹی صاحب نے اب تک حضرت مسیح کی الوہیّت ثابت کرنے کے لئے کچھ بھی پیش نہیں کیا اور مَیں بیان کرچکا ہوں کہ حضرت مسیحؑ یوحّنا ۱۰ باب میں صاف طور سے اپنے تئیں خدا کا بیٹا کہلانے میں دُوسروں کا ہمرنگ سمجھتے ہیں اور کوئی خصوصیّت اپنے نفس کے لئے قائم نہیں کرتے حالانکہ وہ یہودی جنہوں نے حضرت مسیح کو کافر ٹھہرایا تھا اُن کا سوال یہی تھا ۔ اور یہی وجہ کافر ٹھہرانے کی بھی تھی کہ اگر آپ درحقیقت خدا کے بیٹے ہیں تو اپنی خدائی کا ثبوت دیجئے لیکن انہوں نے کچھ بھی ثبوت نہ دیا افسوس کہ ڈپٹی صاحب اِس بات کو کیوں سمجھتے نہیں کہ کیا ایسا ہونا ممکن تھا کہ سوال دیگر و جواب دیگر ۔ اگر حضرت مسیحؑ درحقیقت اپنے تئیں ابن اللہ ٹھہراتے تو ضرور یہی پیشن گوئیاں وہ پیش کرتے جو اَب ڈپٹی صاحب پیش کر رہے ہیں اور جبکہ اُنہوں نے وہ پیش نہیں کیں تو معلوم ہوا کہ اُن کا وہ دعویٰ نہیں تھا اگر اُنہوں نے کسی اور مقام میں