محبت ہے ۔ کیونکہ ایمان جب دوبدو ہوگیا تو ایمان رہا امید جب حاصل ہوگئی تو اتمام پاگئی مگر محبت کبھی اتمام نہیں پاتی اور یہ بھی یاد رہے محبت خاص نام خدا کاہے کہ خدا محبت ہے ۔ ان سب امور سے ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ معجزات جیسے کہ ہمیشہ کے واسطے موعود نہیں ہوئے ویسے ہی نجات کے بارہ میں سب سے اُوپر اِن کا درجہؔ نہیں ۔ لیکن ایک وقت کے واسطے جب نئی تعلیم دی گئی اِس کی تصدیق اور قائمی کے واسطے معجزے بخشے گئے اور اگر ہمیشہ معجزے ہوا کریں تو تاثیر معجزہ ہونے کی کچھ نہ رہے خلاصہ جس آیت سے جناب نے وعدہ عام کی کشش کی ہے ہم یہ دکھلاتے ہیں کہ اسکے متعلق معرفت بھی ہے اور وہ معرفت محض خاص ہے ۔ اور متن کلام باب ۱۶ مرقس کو دیکھ کر جناب اِس بیان کو کسی طرح سے غلط نہ ٹھہرا سکیں گے ۔ ششم ۔جناب فرماتے ہیں کہ مسیح نے بھی اقتداری معجزے دکھلانے سے انکار کیا ۔ لیکن یہ جناب کی زیادتی ہے کہاں انکار کیا ؟ کیا جب لوگ نشان آسمانی کو دیکھ کر واسطے ٹھٹھ کرنے کے اور نشان آسمانی مانگتے تھے تو ارشاد ہوا کہ اس بد اور حرامکار گروہ کو کوئی نشان نہ دکھلایا جاوے گا ۔ اب انصاف فرمائیے کہ کیا نشان کے نہ دکھانے کے معنے یہ ہیں کہ نشان نہیں دکھلایا جاسکتا ۔ کیا کوئی قادر شخص اگر یہ کہے کہ میں فلاں امر نہ کروں گا ۔ تو اسکے معنے یہ ہیں کہ وہ نہیں کرسکتا ؟ متی ۹ اور یوحّنا ۱۱ اور لوقا۷ وغیرہ ابواب میں نظائر معجزات صاف صاف دیکھ لو ۔ مجھے تو جناب کے فہم و ذکا سے اِس سے زیادہ اُمّید تھی کہ آپ ایسے معنے نہ کریں ۔ ہفتم ۔ آپ جو فرماتے ہیں کہ مسیح نے دو گالیاں دیں ۔ کیا بد کو بد کہنا گالی ہے اور یا حرامزادہ کو حرامزادہ کہنا گالی ہے ۔ اگر جناب اسلام کے داب کلام کے موافق بھی کچھ کرتے تو ایک نبی اُولو العزم اور معصوم کے اُوپر ایسی بے مہذ بانہ کلام نہ کرتے ۔