پطرس رسول جب سامریا میں گئے اور بہت سے لوگوں کو مسیحی پایا تو اُن سے سوال کیا کہ تم نے رُوح القدس بھی پائی ہے یا نہیں ۔ اُنہوں نے جواب دیا کہ رُوح القدس کی بابت ہم ؔ نے سُنا تک نہیں تب اُنہوں نے پُوچھا کہ تم نے کس کے ہاتھ سے بپتسما پایا اُنہوں نے کہا کہ یوحنّا اصطباغی کے ہاتھ سے ۔ تب اُنہوں نے ہاتھ اُن کے سر پر رکھے اور اُنکو رُوح القدس ملی ۔ اِس نظیر سے کیا ثابت نہ ہوا کہ ہماری شرح صحیح اور سچّی ہے اور کیا جناب کی کشش وعدہ عام معجزات کی تا ابد غلط ہے ۔
پہلے قرنتیوں کے ۱۲ باب میں ۴ آیت سے معلوم ہوتا ہے ۔ پر رُوح ایک ہی ہے اور خدمتیں بھی طرح طرح کی ہیں اور خدا وند ایک ہی ہے اور تاثیریں طرح طرح کی ہیں پر خدا ایک ہی ہے جو سبھوں میں سب کچھ کرتا ہے ۲۸۔ اور خُدا نے کلب میں کتنوں کو مقرب کیا اور پہلے رسولوں کو دوسرے نبیوں کو تیسرے اُستادوں کو بعد اس کے کرامتیں تب چنگا کرنے کی قدرتیں وغیرہ ۔ ۳ آیت مدد گاریاں پیشوایاں طرح طرح کی زبانیں کیا سب رسول ہیں ؟ کیا سب نبی ہیں کیا سب اُستاد ہیں ۔ کیا سب کرامتیں دکھاتے ہیں؟ کیا سب کو چنگا کرنے کی قدرت ہے ؟ کیا طرح طرح کی زبانیں سب بولتے ہیں ؟ کیا سب ترجمہ کرتے ہیں ۔ اِن امور سے صاف ظاہر ہے کہ اُس زمانہ میں کہ جب حواری موجود تھے ہر ایک مومن کسی بخشش کو عطیّہ الٰہی سے پیش کرتا تھا کہ کسی کو یہ امر آتا تھا اور کسی کو وہ اورکوئی بغیر معجزہ کے نہ تھا لیکن کلام الٰہی نے پہلے قرنتیوں ۲و۸۱۳ میں یہ فرمایا اور اگر میں نبّوت کروں اور اگر مَیں غیب کی سب باتیں اور سارے علم جانوں اور میرا ایمان کامل ہو یہاں تک کہ مَیں پہاڑوں کو چلاؤں پر محبّت نہ رکھوں تو میں کچھ نہیں ہوں محبت کبھی جاتی نہیں رہتی اگر نبوتیں ہیں تو موقوف ہونگی اگر زبانیں ہیں تو بند ہوجائیں گی اگر علم ہے تو لا حاصل ہوجائے گا۔ اور آخری آیت میں لکھا ہے ۔ اب تو ایمان اُمید اور محبت یہ تینوں موجود رہتی ہیں پر اِن میں جو بڑھ کر ہے