ہر دو میر مجلسوں کےؔ اُسپر دستخط کئے گئے جو اِس کارروائی کے ساتھ ملحق ہے ۔ فقط دستخط بحروف انگریزی ۔ ہنری مارٹن کلارک پریزیڈنٹ از جانب عیسائی صاحبان دستخط بحروف انگریزی ۔ غلام قادر فصیح پریزیڈنٹ از جانب اہل اسلام چونکہ مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب بیمار تھے اور انہوں نے اپنے آخری جواب میں ایک پہلے سے لکھی ہوئی تحریر پیش کر کے کہا کہ کوئی اور صاحب انکی طرف سے سُنا دیں ۔ اِسلئے میر مجلس اہل اسلام نے اِسپر اعتراض کیا کہ ایسی تحریر پہلے سے لِکھّی ہُوئی پیش کی جانی خلاف شرائط ہے چنانچہ اس پر ایک عرصہ تک تنازعہ ہوتا رہا ۔ آخر کار یہ قرار پایا کہ سوموار کا ایک دن اِس زمانہ مباحثہ میں ایزاد کیا جاوے اور ایسا ہی دُوسرے زمانہ میں بھی ایک دن اور بڑھا دیا جاوے ۔ علاوہ بریں یہ بھی مرزا صاحب کی رضامندی سے قرار پایا کہ اُس سوموار کے روز مسٹرعبد اللہ آتھم صاحب خدا نخواستہ صحت یاب نہ ہوں تو اُنکی جگہ کوئی اور صاحب مقرر کئے جاویں اور اِس امر کا اختیار ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک صاحب کو ہوگا ۔ یہ بھی قرار پایا کہ ۲۹ تاریخ کو آخری جواب ڈپٹی عبد اللہ آتھم صاحب کا ہو اور دُوسرے زمانہ میں آخری جواب مرزا صاحب کا ہوگا ۔ وقت کا لحاظ نہ ہوگا اور گیارہ بجے کے اندر اندر کارروائی ختم ہوگی ۔ یعنی آخری زمانہ مجیب کا حق ہو گا کہ جواب دے اور اُسکے جواب کے بعد اگر وقت بچے تو سائل کو وقت نہیں دیا جاویگا اور جلسہ برخاست کیا جاویگا۔ چونکہ مذکورہ بالا اوّل الذکر امر فیصلہ طلب تھا اِس لئے اتفاق رائے سے اِسکا یُوں فیصلہ ہؤا کہ آئندہ کوئی مضمون تحریری پہلے کا لکھا ہؤا لفظ بہ لفظ نقل نہیں کرا یا جاسکتا اور یہ فیصلہ بہ تراضی فریقین ہؤا اور فریقین پر کوئی اعتراض نہیں ۔ ۲۷ مئی ۱۸۹۳ ؁ء دستخط بحروف انگریزی ہنری مارٹن کلارک (پریزیڈنٹ) دستخط بحروف انگریزی غلام قادر فصیح (پریزیڈنٹ) از جانب عیسائی صاحبان از جانب اہل اسلام