بیانؔ ڈپٹی عبد اللہ آتھم صاحب
۲۷؍ مئی ۱۸۹۳ء
اوّل ۔ دربارہ راہ نجات و نشانات نجات یافتگان جو جناب مرزا صاحب نے بیان کئے ہیں ہم نے پہلے اِس سے بیان کر دیا ہے کہ ہفتہ آئندہ کے شروع میں اسکی بحث پوری شروع ہوگی اِس جگہ بھی ہم اِس قدر اشارہ کر دیتے ہیں کہ آپ کے لفظ نجا ت کی تعریف بہت ہی نامکمل ہے اور آپ کو ضرور نہ تھا کہ طریقہ نجات مسیحان کو مصنوعی اور غیر طبعی اور باطل فرماتے۔ بہر کیف جو آپ نے فرمایاہے وہ آگے دیکھا جائیگا جب ہماری باری اعتراضات کی ہوگی ۔
دوم ۔ انجیل یوحنّا کی باب ۱۰ پیش کردہ آیات کاہم کافی و وافی جواب دے چکے ہیں آپ نے بجائے اِسکے کہ اُس جواب کا کچھ نقص دکھلاتے محض بار بار تکرار ہی اسکا کیا ہے گویا کہ تکرار ہی کافی ہے اور طول کلامی ہی گویا صداقت ہے ۔یوحنّا کے باب ۱۰۔۳۶ میں جہاں لفظ مخصوص اور بھیجا ہؤا ترجمہ ہؤا ہے ہماری اس شرح پرکہ لفظ مخصوص کا اصل زبان میں بمعنے تقدیس کیا گیا ہے ۔ اور بھیجا ہوااسی پر ایماء کرتا ہے جو اُس نے فرمایا کہ مَیں آسمانی ہوں اور تم زمینی ہو ۔ یہ لفظ جتنے حوالہ آپ نے دیئے ہیں ا ور کسی بزرگ کے بارہ میں پائے نہیں جاتے ۔ یسعیا۱۳۳سطروں کے ترجمہ میں لفظ ارخومائیہے جس کے معنے بھیجا ہواہے ۔ پہلے سمویل۱۸۲ میں لفظ اپسنن ای لو معنے وہی ہیں ۔ پَیدایش ۴۵۷ میں بھی اور یرمیا ۳۵۱۳ میں لفظ بادی زی جس کے معنے جاکے ہیں اور یہ الفاظ مقام متنازعہ کے لفظ ھی گی آسے سے بہت ہی متفرق ہیں اور ان الفاظ کا تعلق مقام متنازعہ سے کچھ نہیں ہے اور جو ہم نے کہا وہ درست ہے ، کہ جس کو خدا نے مخصوص کیا اور بھیجا یعنی آسمان سے بھیجا۔
سوم ۔ کیا یہودی لوگ اسرائیل وغیرہ کو اسی لقب کے باعث کافر سمجھتے تھے ۔ یہ جناب کا سوال ہے ۔ جواب اِس کا ہم بار بار دے چکے مگر افسوس کہ جناب کسی باعث سے