چھٹاؔ پرچہ
مباحثہ ۲۷ ؍مئی ۱۸۹۳ء
روئداد
آج پھر جلسہ منعقد ہوا ۔ ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک صاحب نے یہ تجویز پیش کی کہ چونکہ پادری جی ایل ٹھاکر داس صاحب بوجہ ضروری کام کے گوجرانوالہ میں تشریف لے گئے ہیں۔ اس لئے اُنکی بجائے ڈاکٹر عنایت اللہ صاحب ناصر مقرر کئے جائیں ۔ تجویز منظور ہوئی ۔
پھر بہ تحریک ڈاکٹر عنایت اللہ صاحب ناصر اور بتائید میر حامد شاہ صاحب اور باتفاق رائے حاضرین یہ تجویز منظور ہوئی کہ شرائط مباحثہ میں قرار دیا گیا تھا کہ ہر ایک تقریر پر تقریر کنندوں اور میر مجلس صاحبان کے دستخط ہونے چاہئیں ۔ بعوض اِسکے مَیں پیش کرتا ہوں کہ صاحب میر مجلس صاحبان کے دستخط ہی کافی متصوّر ہیں ۔
مباحثہ کے متعلق یہ قرار پایا کہ اہل اسلام کی طرف سے منشی غلام قادر صاحب فصیح اور مرزاخدا بخش صاحب اور عیسائی صاحبان کی طرف سے بابو فخر الدین اور شیخ وارث الدین صاحب ایک جگہ بیٹھ کر فیصلہ کریں اور رپورٹ کریں کہ مباحثہ کی کس قدر قیمت مناسب مقرر کی جا سکتی ہے ۔ اِسکے بعد عیسائی صاحبان کیطرف سے بتایا جائیگا کہ وہ کس قدر کاپیاں خرید سکیں گے اور یہ مباحثہ جسے عیسائی صاحبان خرید یں گے اس طرح چھپا ہوا ہو گا کہ روئداد اور مصدقہ مضامین فریقین کے لفظ بلفظ اُس میں مندرج ہونگے ۔ کسی فریق کی طرف سے اُس میں کمی بیشی وغیرہ نہیں کی جائیگی ۔
۶ بجے ۳۰ منٹ پر مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب نے جواب لکھانا شروع کیا اور ۷ بجے ۳۰ منٹ پر ختم ہوا اور بعد مقابلہ بلند آواز سے سُنایا گیا ۔ مرزا صاحب نے ۸ بجے ۵ منٹ پر جواب لکھانا شروع کیا اور ۹ بجے ۵ منٹ پر ختم ہوا ۔ اور اِسکے بعد ایک امر پر تنازعہ ہوتا رہا جس کا اُسی وقت فیصلہ کر کے