کے وسیلہ سے مل سکتی ہے تو انھیں اختیار ہے کہ وہ میرے مقابل پر نجات حقیقی کی آسمانی نشانیاں اپنے مسیح سے مانگ کر پیش کریں مگر اب بالخصوص رعایت شرائط بحث کے لحاظ سے میرے مخاطب اِس بارہ میں ڈپٹی عبد اللہ آتھم صاحب ہیں ۔ صاحب موصوفؔ کو چاہیئے کہ انجیل شریف کی علامات قرار دادہ کے موافق سچا ایماندار ہونے کی نشانیاں اپنے وجود میں ثابت کریں اور اِس طرف میرے پر لازم ہوگا کہ مَیں سچا ایماندار ہونے کی نشانیاں قرآن کریم کے رُو سے اپنے وجود میں ثابت کروں مگر اِس جگہ یاد رہے کہ قرآن کریم ہمیں اقتدار نہیں بخشتا بلکہ ایسے کلمہ سے ہمارے بدن پر لرزہ آتا ہے ہم نہیں جانتے کہ وہ کِس قسم کا نشان دکھلائے گا وہی خدا ہے سوا اُسکے اور کوئی خدا نہیں ہاں یہ ہماری طرف سے اِس بات کا عہد پختہ ہے جیسا کہ اللہ جلّ شانہٗ نے میرے پر ظاہر کردیا ہے کہ ضرور مقابلہ کے وقت میں فتح پاؤں گا ۔ مگر یہ معلوم نہیں کہ خدا تعالیٰ کس طور سے نشان دکھلائے گا اصل مدعا تو یہ ہے کہ نشان ایسا ہوکہ انسانی طاقتوں سے بڑھ کر ہو یہ کیا ضرور ہے کہ ایک بندہ کو خدا ٹھہرا کر اقتدار کے طور پر اُس سے نشان مانگا جائے ہمار ایہ مذہب نہیں اور نہ ہمارا یہ عقیدہ ہے اللہ جلّ شانہٗ ہمیں صرف عموم اور کلّی طور پر نشان دکھلانے کا وعدہ دیتاہے اگر اِس میں مَیں جُھوٹا نِکلوں تو جو سزا تجویز کریں خواہ سزائے مَوت ہی کیوں نہ ہو مجھے منظور ہے لیکن اگر آپ حدِّ اعتدال و انصاف کو چھوڑ کر مجھ سے ایسے نشان چاہیں گے جس طرز سے حضور مسیح بھی دِکھلا نہیں سکتے بلکہ سوال کرنے والوں کو ایک دو گالیاں سُناویں تو ایسے نشان دکھلانے کا دم مارنا بھی میرے نزدیک کفر ہے۔ دستخط بحروف انگریزی غلام قادر فصیح پریزیڈنٹ از جانب اہل اسلام دستخط بحروف انگریزی ہنری مارٹن کلارک پریزیڈنٹ از جانب عیسائی صاحبان