سےؔ انکار کردیا پھر اس سے بھی عجب طرح کا ایک اور مقام دیکھئے کہ جب مسیح صلیب پر کھینچے گئے تو تب یہودیوں نے کہا کہ اُس نے اوروں کو بچایا پر آپ کو نہیں بچا سکتا اگر اسرائیل کا بادشاہ ہے تو اب صلیب سے اُتر آوے تو ہم اسپر ایمان لاویں گے اب ذرا نظر غور سے اس آیت کو سوچیں کہ یہودیوں نے صاف عہد اور اقرار کر لیا تھا کہ اب صلیب سے اُتر آوے تو وہ ایمان لاوینگے لیکن حضرت مسیح اُتر نہیں سکے ان تمام مقامات سے صاف ظاہر ہے کہ نشان دکھلانا اقتداری طور پر انسان کا کام نہیں ہے بلکہ خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے جیسا کہ ایک اور مقام میں حضرت مسیح فرماتے ہیں یعنی متی ب۱۲۔ آیت ۳۸کہ اس زمانہ کے بد اور حرام کار لوگ نشان ڈھونڈتے ہیں پر یونس نبی کے نشان کے سواکوئی نشان دکھلایا نہ جائیگا اب دیکھئے کہ اِس جگہ حضرت مسیح نے اُنکی درخواست کو منظور نہیں کیا بلکہ وہ بات پیش کی جو خدا تعالیٰ کی طرف سے اُنکو معلوم تھی اِسی طرح مَیں بھی وہ بات پیش کرتا ہوں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھ کو معلوم ہے میرا دعویٰ نہ خدائی کا اور نہ اقتدار کا اور میں ایک مسلمان آدمی ہوں جو قرآن شریف کی پَیروی کرتا ہوں اورقرآن شریف کی تعلیم کے رُو سے اس موجودہ نجات کا مدعی ہوں ۔ میرا نبّوت کا کوئی دعویٰ نہیں یہ آپ کی غلطی ہے یا آپ کسی خیال سے کہہ رہے ہیں کیا یہ ضروری ہے کہ جو الہام کا دعویٰ کرتا ہے وہ نبی بھی ہو جائے میں تو محمدؐی اور کامل طور پر اللہ و رسول کا متبع ہوں اور ان نشانوں کا نام معجزہ رکھنا نہیں چاہتا بلکہ ہمارے مذہب کی رُو سے ان نشانوں کا نام کرامات ہے جو اللہ رسول ؐکی پیروی سے دیئے جاتے ہیں تو پھر مَیں دعوتِ حق کی غرض سے دوبارہ اتمام حُجّت کرتا ہوں کہ یہ حقیقی نجات اور حقیقی نجات کے برکات اور ثمرات صرف اُنھیں لوگوں میں موجود ہیں جو حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی پَیروی کرنے والے اور قرآنِ کریم کے احکام کے سچے تابعدار ہیں اور میرا دعویٰ قرآن کریم کے مطابق صرف اِتنا ہے کہ اگر کوئی حضرت عیسائی صاحب اس نجات حقیقی کے مُنکر ہوں جو قرآن کریم