دیا جائیگا بلکہ صاف فرمادیا کہ ۱؂یعنی انکو کہدو کہ نشان اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں جس نشان کو چاہتا ہے اُسی نشان کو ظاہر کرتا ہے بندہ کا اُسپر زور نہیں ہے کہ جبر کے ساتھ اُس سے ایک نشان لیوے یہ جبر اور اقتدار تو آپ ہی کی کتابوں میں پایا جاتا ہے بقول آپ کے مسیح اقتداری معجزات دکھلاتا تھا اور اُس نے شاگردوں کو بھی اقتدار بخشا۔ اور آپ کا یہ عقیدہ ہے کہ اب بھی حضرت مسیح زندہ حیّ قیّوم قادر مطلق عالم الغیب دن رات آپ کے ساتھ ہے جو چاہو وہی دے سکتا ہے پس آپ حضرت مسیح سے درخواست کریں کہ ان تینوں بیماروں کو آپ کے ہاتھ رکھنے سے اچھاکر دیویں تا نشانی ایمانداری کی آپ میں باقی رہ جاوے ورنہ یہ تو مناسب نہیں کہ ایک طرف اہل حق کے ساتھ بحیثیت سچے عیسائی ہونے کے مباحثہ کریں اور جب سچے عیسائی کے نشان مانگے جائیں تب کہیں کہ ہم میں استطاعت نہیں اس بیان سے تو آپ اپنے پر ایک اقبالی ڈگری کراتے ہیں کہ آپ کا مذہب اسوقت زندہ مذہب نہیں ہے لیکن ہم جس طرح پر خدا تعالیٰ نے ہمارے سچے ایماندار ہونے کے نشان ٹھہرائے ہیں اس التزام سے نشان دکھلانے کو تیار ہیں اگر نشان نہ دکھلاسکیں تو جو سزا چاہیں دے دیں اور جس طرح کی چُھری چاہیں ہمارے گلے میں پھیر دیں اور وہ طریق نشان نمائی کا جسکے لئے ہم مامور ہیں وہ یہ ہے کہ ہم خدا تعالیٰ سے جو ہمارا سچا اور قادر خدا ہے اس مقابلہ کے وقت جو ایک سچے اور کامل نبی کا انکار کیا جاتا ہے تضرع سے کوئی نشان مانگیں تو وُہ اپنی مرضی سے نہ ہمارا محکوم اور تابع ہو کر جس طرح سے چاہے گا نشان دکھلائے گا آپ خوب سوچیں کہ حضرت مسیح بھی باوجود آپ کے اس قدر غلو کے اقتدار ی نشانات کے دکھلانے سے عاجز رہے دیکھئے مرقس ب ۸۔۱۱،۱۲ ۔ آیت میں یہ لکھا ہے ۔ تب فریسی نکلے اور اس سے حجت کر کے یعنی جس طرح اب اسوقت مجھ سے حجت کی گئی ۔ اس کے امتحان کیلئے آسمان سے کوئی نشان چاہا اُس نے اپنے دل سے آہ کھینچ کے کہا کہ اس زمانہ کے لوگ کیوں نشان چاہتے ہیں۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ اس زمانہ کے لوگوں کو کوئی نشان دیا نہ جائیگا اَب دیکھئے کہ یہودیوں نے اسی طرز سے نشان مانگا تھا حضرت مسیح نے آہ کھینچ کر نشان دکھلانے