ایماندار ہو تو تمہاری یہی علامت ہے کہ بیمار پر ہاتھ رکھوگے تو وہ چنگا ہوجائیگا اب گستاخی معاف اگر آپ سچّے ایماندار ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں تو اِسوقت تین بیمار آپ ہی کے پیش کردہ موجود ہیں آپ اُن پر ہاتھ رکھدیں اگر وہ چنگے ہوگئے تو ہم قبول کرلیں گے کہ بیشک آپ سچّے ایماندار اور نجات یافتہ ہیں ورنہ کوئی قبول کرنے کی راہ نہیں کیونکہ حضرت مسیح تو یہ بھی فرماتے ہیں کہ اگر تم میں رائی کے دانہ برابر بھی ایمان ہوتا تو اگر تم پہاڑ کو کہتے کہ یہاں سے چلا جاتو وہ چلا جاتا مگر خیر مَیں اس وقت پہاڑ کی نقل مکانی تو آپ سے نہیں چاہتا کیونکہ وہ ہماری اِس جگہ سے دور ہیں لیکن یہ تو بہت اچھی تقریب ہوگئی کہ بیمار تو آپ نے ہی پیش کردیئے اِب آپ ان پر ہاتھ رکھو اور چنگا کرکے دکھلاؤ ورنہ ایک رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان ہاتھ سے جاتا رہے گا مگر آپ پر یہ واضح رہے کہ یہ الزام ہم پر عائدنہیں ہو سکتا کیونکہ اللہ جلّ شانہٗ نے قرآن کریم میں ہماری یہ نشانی نہیں رکھی کہ بالخصوصیّت تمہاری یہی نشانی ہے کہ جب تم بیماروں پر ہاتھ رکھوگے تو اچھے ہوجائیں گے ہاں یہ فرمایا ہے کہ میں اپنی رضا اور مرضی کے موافق تمہاری دُعائیں قبول کرونگا اور کم سے کم یہ کہ اگر ایک دُعا قبول کرنے کے لائق نہ ہو اور مصلحتِ الٰہی کے مخالف ہو تو اس میں اطلاع دیجائیگی یہ کہیں نہیں فرمایا کہ تم کو یہ اقتدار دیا جائیگا کہ تم اقتداری طور پر جو چاہو وہی کر گذروگے ۔ مگر حضرت مسیح کا تو یہ حکم معلوم ہوتا ہے کہ وہ بیماروں وغیرہؔ کے چنگا کرنے میں اپنے تابعین کو اختیار بخشتے ہیں جیسا کہ متی ۱۰ باب ۱ میں لکھا ہے پھر اُس نے بارہ شاگردوں کو پاس بلا کے انہیں قدرت بخشی کہ ناپاک رُوحوں کو نکالیں اور ہر طرح کی بیماری اور دُکھ درد کو دُور کریں ۔ اب یہ آپکا فرض اور آپکی ایمانداری کا ضرور نشان ہو گیا کہ آپ ان بیماروں کو چنگا کرکے دکھلادیں یا یہ اقرار کریں کہ ایک رائی کے دانہ کے برابر بھی ہم میں ایمان نہیں اور آپکو یاد رہے کہ ہر ایک شخص اپنی کتاب کے موافق مؤاخذہ کیا جاتا ہے ۔ ہمارے قرآن کریم میں کہیں نہیں لکھاکہ تمہیں اقتدار