لفظ آئے ہیں کافر خیال کرتے تھے نہیں بلکہ سوال ان کا تو یہی تھا کہ ان کو بھی دھوکا لگا تھا کہ حضرت مسیح حقیقت میں اپنے تئیں اللہ کا بیٹا سمجھتے ہیں اور چونکہ جواب مطابق سوال چاہیئے اس لیے حضرت مسیح کا فرض تھا کہ وہ اُنکے جواب میں وُہی طریق اختیار کرتے جس طریق کیلئے اُنکا استفسار تھا اگر حقیقت میں خدا تعالیٰ کے بیٹے تھے تو وُہ پیشگوئیاں جو ڈپٹی عبد اللہ آتھم صاحب بعد از وقت اس مجلس میں پیش کر رہے ہیں کے سامنے پیش کرتے اور چند نمونہ خدا ہونے کے دکھلادیتے تو فیصلہ ہو جاتا یہ بات ہر گز صحیح نہیں ہے کہ یہودیوں کا سوال حقیقی ابن اللہ کے دلائل دریافت کرنے کیلئے نہیں تھا ۔ اس مقام میں زیادہ لکھنے کی کچھ ضرورت نہیں اَ ب بعد اسکے واضح ہو کہ مَیں نے ڈپٹی عبد اللہ آتھم صاحب کی خدمت میں یہ تحریر کیا تھا کہ جیسے کہ آپ دعویٰ کرتے ہیں کہ نجات صرف مسیحی مذہب میں ہے ایسا ہی قرآن میں لکھا ہے کہ نجات صرف اسلام میں ہے اور آپکا تو صرف اپنے لفظوں کے ساتھ دعویٰ اور میں نے وہ آیات بھی پیش کر دی ہیں ۔ لیکن ظاہر ہے کہؔ دعویٰ بغیر ثبوت کے کچھ عزّت اور وقعت نہیں رکھتا ۔ سو اس بناء پر دریافت کیا گیا تھا کہ قرآن کریم میں تو نجات یا بندہ کی نشانیاں لکھی ہیں جن نشانوں کے مطابق ہم دیکھتے ہیں کہ اس مقدس کتاب کی پَیروی کرنے والے نجات کو اسی زندگی میں پا لیتے ہیں مگر آپ کے مذہب میں حضرت عیسٰی ؑ نے جو نشانیاں نجات یا بندوں یعنی حقیقی ایمانداروں کی لکھی ہیں وہ آپ میں کہاں موجود ہیں ۔ مثلاََ جیسے کہ مرقس ۱۶۔ ۱۷ میں لکھا ہے ۔ اور وے جو ایمان لائیں گے اُن کے ساتھ یہ علامتیں ہونگی کہ وہ میرے نام سے دیووں کو نکالینگے اور نئی زبانیں بولینگے سانپوں کو اُٹھالینگے اور اگر کوئی ہلاک کرنے والی چیز پیئیں گے اُنہیں کچھ نقصان نہ ہو گا ۔ وے بیماروں پر ہاتھ رکھیں گے تو چنگے ہوجائینگے ۔ تو اَب میں بادب التماس کرتا ہوں اور اگر ان الفاظ میں کچھ درشتی یا مرارت ہو تو اُسکی معافی چاہتا ہوں کہ یہ تین بیمار جو آپ نے پیش کئے ہیں یہ علامت تو بالخصوصیّت مسیحیوں کیلئے حضرت عیسٰی ؑ قرار دے چکے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اگرتم سچے