تو اپنے مدعا کا پورا پورا اظہار کرتے اور اپنے ابن اللہ ہونے کا ا ن کو ثبوت دیتے کیونکہ اس وقت وہ ثبوت ہی مانگتے تھے لیکن حضرت مسیح نے تو اس طرف رخ نہ کیا اور اپنے دوسرے انبیاء کی طرح قرار دیکر عذر پیش کر دیا اور اس فرض سے سبکدوش نہ ہوئے جو ایک سچا مبلغ اور معلم سبکدوش ہونا چاہتا ہے اور آپ کا یہ فرمانا کہ مخصوص مقدس کو کہتے ہیں حضرت مسیح کی کوئی خصوصیت ثابت نہیں کرسکتا کیونکہ آپ کی بائبل میں مخصوص کا ؔ لفظ اور نبیوں وغیرہ کی نسبت بھی استعمال پاگیا ہے دیکھو یسعیا نبی ۱۳ باب ۳۔ اور جو آپ نے بھیجے ہوئے کے معنی الوہیت نکالے ہیں یہ بھی ایک عجیب معنی ہیں آپ دیکھیں کہ پہلے سمویل کے ۱۲ باب ۸ آیت میں لکھا ہے کہ موسیٰ اور ہارون کو بھیجا اور پھر پیدائش ۴۵ ۔ ۷ میں لکھا ہے۔ خدا نے مجھے یہاں بھیجا ہے پھر یرمیا ۳۵ باب ۱۳،۴۴ باب ۴ میں یہی آیت موجود ہے اب کیا اس جگہ بھی ان الفاظ کے معنی الوہیت کرنا چاہئے افسوس کہ آپ ایک سیدھے اور سادے حضرت مسیح کے بیان کو توڑ مروڑ کر اپنے منشاء کے مطابق کرنا چاہتے ہیں اور حضرت مسیح نے جو اپنی بریت کا ثبوت پیش کیا اس کو نکما اور مہمل کرنا آپ کا ارادہ ہے کیا حضرت مسیح یہودیوں کی نظر میں صرف اس قدر کہنے سے بری ہوسکتے تھے کہ میں اپنے خدا ہونے کی وجہ سے تو بے شک ابن اللہ ہی ہوں لیکن میں انسانیت کی وجہ سے دوسرے نبیوں کے مساوی ہوں اور جو انکے حق میں کہا گیا وہ ہی میرے حق میں کہا گیا۔ اور کیا یہودیوں کا الزام اس طور کے رکیک عذر سے حضرت مسیح کے سر پر سے دور ہوسکتا تھا اور کیا انہوں نے یہ تسلیم کیا ہوا تھا کہ حضرت مسیح اپنی خدائی کی وجہ سے تو بے شک ابن اللہ ہی ہیں اس میں ہمارا کوئی جھگڑا نہیں ہاں انسان ہونے کی وجہ میں کیوں اپنے تئیں ابن اللہ کہلاتے ہیں بلکہ صاف ظاہر ہے کہ اگر یہودیوں کے دل میں صرف اتنا ہی ہوتا کہ حضرت مسیح محض انسان ہونے کی و جہ سے دوسرے مقدس اور مخصوص انسانوں کی طرح اپنے تئیں ابن اللہ قرار دیتے ہیں تو وہ کافر ہی کیوں ٹھہراتے کیا وہ حضرت اسرائیل کو اور حضرت آدم اور دوسرے نبیوں کو جن کے حق میں ابن اللہ کے