دو۲سرا امر جناب مرزا صاحب جو فرماتے ہیں کہ مسیح نے اپنے لئے حواریوں سے دعا چاہی یہ تو سچ نہیں موقعہ کو دیکھ لیں اس میں یہ تو لکھا ہے کہ مسیح نے ان کو کہا کہ تم اپنے لئے دعا مانگو تاکہ تم امتحان میں نہ پڑو۔ تیسر۳ا جناب کے کل کے مباہلہ کا جواب یہ ہے کہ ہم مسیحی تو پرانی تعلیمات کے لئے نئے معجزات کی کچھ ضرورت نہیں دیکھتے اور نہ ہم اس کی استطاعت اپنے اندردیکھتے ہیں بجز اس کے کہ ہم کووعدہ یہ ہوا ہے کہ جو درخواست بمطابق رضاء الٰہی کے تم کرو گے وہ تمہارے واسطے حاصل ہو جائے گی اور نشانات کا وعدہ ہم سے نہیں لیکن جناب کو اس کا بہت سا ناز ہے ہم بھی دیکھنے معجزہ سے انکار نہیں کرتے۔ اگر اسی میں مہربانی خلق اللہ کے اوپر ہے کہ نشان دکھلا کر فیصلہ کیا جائے تو ہم نے تو اپنا عجز بیان کیا جناب ہی کوئی معجزہ دکھلا دیں اور اس وقت آپ نے اپنے آخری مضمون دیروزہ میں کہا تھا اور کچھ آج بھی اس پر ایما ہے اب زیادہ گفتگو کی اس میں کیا ضرورت ہے ہم دونوں عمر رسیدہ ہیں آخر قبر ہمارا ٹھکانا ہے خلق اللہ پر رحم کرنا چاہیئے کہ آؤ کسی نشان آسمانی سے فیصلہ کر لیں۔ اور یہ بھی آپ نے کہا کہ مجھے خاص الہام ہوا ہے کہ اس میدان میں تجھے فتح ہے۔ اور ضرور خدائے راست ان کے ساتھ ہوگا جو راستی پر ہیں ضرور ضرور ہی ہوگا۔ آپ کی تحریر کے خلاصہ کا یہ جواب ہے جیسا کہ ہم آگے بھی لکھ چکے ہیں کہ ہم آپ کو کوئی پیغمبر یا رسول یا شخص ملہم جان کر آپ سے مباحثہ نہیں کرتے آپ کے ذاتی خیالات اور وجوہات اور الہامات سے ہمارا کچھ سروکار نہیں ہم فقط آپ کو ایک محمدی شخص فرض کر کے دین عیسوی اور محمدیت کے بارہ میں بموجب ان قواعد و اسناد کے جو ان ہر دو میں عام مانی جاتی ہیں آپ سے گفتگو کر رہے ہیں خیر تاہم چونکہ آپ کو ایک خاص قدرت الٰہی دیکھانے پر آمادہ ہو کے ہم کو برائے مقابلہ بلاتے ہیں تو ہمیں دیکھنے سے گریز بھی نہیں یعنی معجزہ یا نشانی۔ پس ہم یہ تین شخص پیش کرتے ہیں جن میں ایک اندھا۔ ایک ٹانگ کٹا اور ایک گونگا ہے۔ ان میں سے جس کسی کو صحیح سالم کر سکو کر دو اور جو اس معجزہ سے ہم پر فرض و واجب ہوگا ہم ادا کریں گے آپ بقول خود ایسے خدا کے قائل ہیں جو گفتہ قادر نہیں لیکن درحقیقت