کا نجات دینا میں نے بچشم خود دیکھ لیا ہے۔ اور میں پھر اللہ تعالیٰ کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ میں بالمقابل اس بات کو دکھلانے کو حاضر ہوں لیکن اول آپ دو حرفی مجھے جواب دیں کہ آپ کے مذہب میں سچی نجات معہ اس کی علامت کے پائی جاتی ہے یا نہیں اگر پائی جاتی ہے تو دکھلاؤ۔ پھر اس کا مقابلہ کرو۔ اگر نہیں پائی جاتی تو آپ صرف اتنا کہہ دو کہ ہمارے مذہب میں نجات نہیں پائی جاتی۔ پھر میں یک طرفہ ثبوت دینے کے لئے مستعد ہوں۔ دستخط بحروف انگریزی دستخط بحروف انگریزی غلام قادر فصیح ہنری مارٹن کلارک پریزیڈنٹ ازجانب اہل اسلام پریزیڈنٹ ازجانب عیسائی صاحبان بیان ڈپٹی مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب بقیہ جواب:جو مرزا صاحب نے فرمایا کہ مسیح نے اسی وقت ایسا یا ویسا ثبوت کیوں نہ دیا جب اس پر الزام کفر کا لگا کر پتھراؤ کرنا چاہتے تھے تاکہ ظاہر ہو جاتا کہ فی الواقع اللہ ہی ہے۔ مجھے اس پر ایک قصہ یاد آیا کہ ایک شخص نے مجھ سے کلام کرتے ہوئے یہ کہا کہ خدا تعالیٰ نے یہ کیا کوتاہ بینی کی کہ دو آنکھیں پیشانی کے نیچے ہی لگا دی ہیں ایک سر میں کیوں نہ لگا دی کہ وہ اوپر کی بلیّات سے اپنے آپ کو محفوظ رکھتا اور ایک پیٹھ میں کیوں نہ لگا دی کہ پیچھے سے دیکھ سکتا اب اس میں حیرانی ہے کہ کیا ایک بے چون و چرا پر اس قسم کی چون و چرا جائز ہے یہ کہنا معقول نہیں ہے کہ ایسا اور ویسا کیوں نہ کیا مگر یہ معقول ہے کہ جو کیا گیا ہے اس کو بمعرض اعتراض لایا جائے۔ ہم پوچھتے ہیں کہؔ کیا یہودیوں کا الزام یہی نہ تھا کہ تو انسان ہو کر خدا بنتا ہے یہ کفر ہے۔ اور جواب اس کا یہ ہوا کہ میں انسان ہوکر بھی اپنے آپ کو ابن اللہ کہہ سکتا ہوں اور کفر نہیں ہوتا جیسے نبی اللہ بھی تو انسان تھے اور ان کو اللہ کہا گیا تو پس اس میں سوال اس کی الوہیت کے متعلق کونسا تھا۔