مغفرت کے لئے بھی قانون قدرت رکھا ہے جو ابھی میں نے بیان کیا ہے اور درحقیقت اس قانون قدرت میں جو طبعی اور ابتدا سے چلا آتا ہے ایسی خوبی اور عمدگی ہے جو ایک ہی انسان کی سرشت میں خدا تعالیٰ نے دونوں چیزیں رکھ دی ہیں جیسے اس کی سرشت میں گناہ رکھا ہے ویسا ہی اس گناہ کا علاج بھی رکھا اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایسے طور سے زندگی وقف کر دی جائے کہ جس کو سچی قربانی کہہ سکتے ہیں اب مختصر بیان یہ ہے کہ آپ کے نزدیک یہ طریق نجات کا جو قرآن شریف نے پیش کیا ہے صحیح نہیں ہے تو اول آپ کو چاہیئے کہ اس طریق کے مقابل پر جو حضرت مسیح کی زبان سے ثابت ہوتا ہے اس کو ایساہی مدلل اور معقول طور پر ان کی تقریر کے حوالہ سے پیش کریں پھر بعد اس کے انہیں کے قول مبارک سے اس کی نشانیاں بھی پیش کریں تاکہ تمام حاضرین جو اس وقت موجود ہیں ابھی فیصلہ کر لیں۔ ڈپٹی صاحب! کوئی حقیقت بغیر نشانوں کے ثابت نہیں ہوسکتی دنیا میں بھی ایک معیار حقائق شناسی کا ہے کہ ان کو ان کی نشانیوں سے پرکھا جائے سو ہم نے تو وہ نشانیاں پیش کر دیں اور ان کا دعویٰ بھی اپنی نسبت پیش کر دیا اب یہ قرضہ ہمارا آپ کے ذمہ ہے اگر آپ پیش نہیں کریں گے اور ثابت کرکے نہیں دکھلائیں گے کہ یہ طریق نجات جو حضرت مسیح کی طرف منسوب کیا جاتا ہے کس وجہ سے سچا اور صحیح اور کامل ہے تو اس وقت تک آپ کا یہ دعویٰ ہر گزصحیح نہیں سمجھا جا سکتا بلکہ قرآن کریم نے جو کچھ بیان کیاہے وہ صحیح اور سچا ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس نے صرف بیان ہی نہیں کیا بلکہ کر کے بھی دکھا دیا اور اس کا ثبوت میں پیش کر چکا ہوں آپ براہ مہربانی اب اس نجاتؔ ؔ کے قصہ کو بے دلیل اور بے وجہ صرف دعویٰ کے طور پر پیش نہ کریں۔ کوئی صاحب آپ میں سے کھڑے ہوکر اس وقت بولیں کہ میں بموجب فرمودہ حضرت مسیح کے نجات پاگیا ہوں اور وہ نشانیاں نجات کی اور کامل ایمانداری کی جو حضرت مسیح نے مقرر کی تھیں وہ مجھ میں موجود ہیں پس ہمیں کیا انکار ہے۔ ہم تو نجات ہی چاہتے ہیں لیکن زبان کی لسانی کو کوئی قبول نہیں کر سکتا۔ میں آپ کی خدمت میں عرض کرچکا ہوں کہ قرآن