لکھا کہ قضات اور بزرگ الوہیم کہلائے۔ اگر وہ الوہیم کہلائے اور کفر ان پر عائد نہ ہوا اور مجھ کو جسے خدا نے مخصوص کیا ہے کفر کا الزام لگاتے ہو۔ یہاں سے صاف نظر آتا ہے کہ ان کی دیوانگی کے شعلہ کو فرو کیا ہے اور اپنی الوہیت کا (ان لفظوں میں) نہ انکار کیا نہ اقرار۔ فقط (باقی آئندہ)
دستخط بحروف انگریزی دستخط بحروف انگریزی
ہنری مارٹن کلارک (پریزیڈنٹ) غلام قادر فصیح (پریزیڈنٹ)
ازجانب عیسائی صاحبان ازجانب اہل اسلام
بیان حضرت مرزا صاحب
۲۵۔ مئی ۱۸۹۳ ء
ڈپٹی عبداللہ آتھم صاحب نے کمال کے لفظ پر گرفت کی تھی اس کا کسی قدر جواب برعایت اختصار دے چکا ہوں مگر ڈپٹی صاحب موصوف نے ساتھ اس کے یہ فقرہ بھی ملادیا ہے کہ نجات دینے میں کمال ہونا چاہئے۔ اور منجی حضرت مسیحؑ ہیں اور اس کی تائید میں ڈپٹی صاحب نے بہت سی پیشگوئیاں بائیبل اور نیز خطوط عبرانیوں وغیرہ سے لکھ کر پیش کی ہیں مگر میں افسوس سے لکھتا ہوں کہ یہ درد سر بے فائدہ اٹھائی گئی۔ میری طرف سے یہ شرط ہوچکی تھی کہ فریقین میں سے جو صاحب اپنی الہامی کتاب کے متعلق کچھ بیان کرنا چاہیں اس میں یہ قاعدہ ہونا چاہیئے کہ اگر وہ بیان از قسم دعویٰ ہو تو وہ دعویٰ بھی الہامی کتاب آپ پیش کرے اور اگر وہ بیان از قسم دلائل عقلیہ ہوتو چاہئے کہ الہامی کتاب دلائل عقلیہ آپ پیش کرے نہ یہ کہ الہامی کتاب پیش کرنے سے عاجز ہو اور اس کی حالت پر رحم کرکے اس کی مدد کی جائے ڈپٹی صاحب توجہ فرماویں کہ میں نے ابطال الوہیت کی جب دلیل پیش کی تو وہ اپنی طرؔ ف سے نہیں کی بلکہ وہ عقلی دلیل پیش کی جو قرآن کریم نے آپ فرمائی تھی۔ مگر میں دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ ڈپٹی صاحب موصوف نے مطابق شرائط قرار یافتہ کے عقلی دلائل میں سے کیا پیش کیا۔ اگر