ڈپٹی صاحب یہ فرماویں کہ ہم نے ایک ذخیرہ کثیرہ پیشگوئیوں کا جو پیش کردیا تو اس سے زیادہ کیا پیش کیا جاتا تو اس کے جواب میں افسوس سے بھرے ہوئے دل کے ساتھ مجھے یہ کہنا پڑتا ہے کہ وہ پیشگوئیاں دلائل عقلیہ میں سے نہیں ہیں وہ تو ہنوز دعاوی کے رنگ میں ہیں جو اپنے ثبوت کے بھی محتاج ہیں چہ جائیکہ دوسری چیز کی مثبت ہوسکیں اور میں شرط کر چکا ہوں کہ دلائل عقلیہ پیش کرنی چاہئں۔ ماسوا اسکے جس قدر پیش کیاگیا ہے حضرت مسیحؑ اس کی تصدیق سے انکار کررہے ہیں۔ اگرچہ میں اپنے کل کے بیان میں کسی قدر اس کا ثبوت دے چکا ہوں مگر ناظرین کی زیادت معرفت کی غرض سے پھر کسی قدر لکھتا ہوں کہ حضرت مسیحؑ یوحنّا باب ۱۰۳۰ میں ۳۷ تک صاف طور پر فرمارہے ہیں کہ مجھ میں اور دوسرے مقرّبوں اور مقدسوں میں ان الفاظ کی اطلاق میں جو بائیبل میں اکثر انبیاء وغیرہ کی نسبت بولے گئے ہیں جو ابن اللّٰہ ہیں یا خدا ہیں کوئی امتیاز اور خصوصیت نہیں۔ ذرا سوچ کر دیکھنا چاہئے کہ حضرت مسیحؑ پر یہودیوں نے یہ بات سن کر کہ وہ اپنے تئیں ابن اللہ کہتے ہیں یہ الزام لگایا تھا کہ تو کفر کہتا ہے یعنی کافر ہے اور پھر انہوں نے اس الزام کے لحاظ سے ان کو پتھراؤ کرنا چاہا اور بڑے افروختہ ہوئے۔ اب ظاہر ہے کہ ایسے موقعہ پر کہ جب حضرت مسیحؑ یہودیوں کی نظر میں اپنے ابن اللہ کہلانے کی وجہ سے کافر معلوم ہوتے تھے اور انہوں نے اسکو سنگسار کرنا چاہا۔ تو ایسے موقعہ پر کہ اپنی بریت یا اثبات دعویٰ کا موقعہ تھا مسیحؑ کا فرض کیا تھا؟ ہر ایک عقلمند سوچ سکتا ہے کہ اس موقعہ پر کہ کافر بنایا گیا حملہ کیا گیا سنگسار کرنے کا ارادہ کیا گیا۔ دو صورتوں میں سے ایک صورت اختیار کرنا مسیح کا کام تھا۔ اول یہ کہ اگر حقیقت میں حضرت مسیحؑ خدا تعالیٰ کے بیٹے ہی تھے تو یوں جواب دیتے کہ یہ میرا دعویٰ حقیقت میں سچاہے اور میں واقعی طور پر خدا تعالیٰ کا بیٹا ہوں اور اس دعویٰ کے ثابت کرنے کیلئے میرے پاس دو ثبوت ہیں ایک یہ کہ تمہاری کتابوں میں میری نسبت لکھا ہے کہ مسیح درحقیقت خدا تعالیٰ کا بیٹا ہے بلکہ خود خدا ہے۔ قادر مطلع ۱؂ ہے۔عالم الغیب ہے اور جو چاہتا ہے کرتا ہے اگر تم کو شبہ ہے تو لاؤ کتابیں پیش کرو میں ان کتابوں سے اپنی خدائی کا ثبوت تمہیں دکھلادوں گا۔ یہ تمہاری غلط فہمی اورکم توجّہی