ہفتم۔ المسیح دنیا کی عدالت کرے گا متی ۱۶۲۷ کیونکہ ابن آدم اپنے باپ کے جلال میں اپنے فرشتوں کے ساتھ آوے گا۔ تب ہر ایک کو اس کے اعمال کے موافق بدلہ دے گا۔ دوسری قرنتی ۵۱۰ کیونکہ ہم سب کو ضرور ہے کہ مسیح کی مسند عدالت کے آگے حاضر ہوویں تاکہ ہر ایک جو کچھ اس نے بدن میں ہوکے کیا بھلایا برا مطابق اس کے پاوے۔ متی ۴۱و۴۱۳۲و۴۳ ۳۱سے۴۶۲۵ یوحنّا ۲۲و۲۳۵ اعمال ۱۰۴۲ ہشتم۔ المسیح گناہ بخشتا ہے متی ۹۶ لیکن تا کہ تم جانو کہ ابن آدم کو زمین پر گناہ معاف کرنے کا اختیار ہے۔ لوقا ۲۰ سے۵ ۲۶ ۔ ۷۴۸ نہم۔ المسیح اپنے فرشتوں کو بھیجتا ہے۔ متی ۱۳۴۱ ابن آدم اپنے فرشتوں کو بھیجے گا۔ مکاشفات ۱۱، ۲۶۲ نوٹ۔اگر مسیح محض انسان ہی ہوتا تو صفات مذکورہ بالا جو فقط ذات باری تعالیٰ پر عائد ہوسکتی ہیں اس پر کس طرح عائد ہوتیں۔ علاوہ اس کے واضح ہو کہ انسان کی نجات و سزا وغیرہ کے متعلق المسیح کو وہ کام منسوب کئے گئے ہیں جو سوائے خالق کے مخلوق نہیں کرسکتا اور نہ بائیبل میں کسی اور کو منسوب کئے گئے۔ اب جناب کے ان امور کا جواب جو پہلے پورا نہ ہوا تھا سو یہ ہے کہ جناب نے مسیح کی الوہیت کے مخالف اس کا وہ بیان لیا ہے جو تمہاری کتب میں لکھا ہے تم سب خدا ہو تب تم میرے خدا ہونے کو کیوں رد کرتے ہو۔ مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ مناسب تو یہ تھا کہ اس جگہ مسیح اپنے دعویٰ الوہیت کو مفصل پیش اور ثابت کرتا۔ جواب۔ میری التماس یہ ہے کہ ایک شخص کا کچھ بیان کرنا منجملہ اس کی وجوہات مضمنہ کے منافی اس کے مابقی مضمنہ کا نہیں یعنی الوہیت کا انکار اس میں نہیں۔ اس میں مراد المسیح کی صرف ان کے غصہؔ کو فرو کرنا تھا۔ کیونکہ وہ اس امر پر اس کو پتھراؤ کرنا چاہتے تھے کہ اس نے کہا کہ میں خدا کا بیٹا ہوں۔ اور انہوں نے یہ معنے کئے اور صحیح کئے کہ تو اپنے آپ کو خدا کا بیٹا ٹھہرا کر خدا کا مساوی بنتا ہے۔ پس یہ تیرا کفر ہے ہم اس لئے تجھے پتھراؤ کرتے ہیں اس نے کہا کہ لفظ اللہ کہنے سے میرے پر کفر کس طرح عائد کرتے ہو کیا تمہارے ہاں کتب انبیاء میں نہیں