بیان مسٹر عبداللہ آتھم صاحب
بقیہ دیروزہ ۲۵۔ مئی ۱۸۹۳ ء
جناب مرزا صاحب مکرم میرے جو فرماتے ہیں کہ جو امور تعلیمیہ کسی کتاب الہامی سے ہوں ان کا ثبوت بھی اسی کتاب کے بیان سے ہو یعنی اس قسم کی کھچڑی نہ ہو جائے کہ کچھ تو کتاب کی تعلیم سے پیدا ہو جائے اور کچھ ذہن اس شخص کے سے جو تائید کرنے کے واسطے اس تعلیم کے کھڑا ہے۔ جس کے جواب میں میری التماس یہ ہے کہ میں نے مختصر ایک فہرست بنا دی ہے کہ جس کو پادری ٹامس ہاول صاحب لکھوا دیویں کہ میں کمزورآدمی ہوں۔ وھو ھٰذا۔
اوّل کثرت فی الوحدت
یرمیا ۲۳ باب ۶۔ اس کے دنوں میں یہود انجات پاوے گا اور اسرائیل سلامتی سے سکونت کرے گا اور اس کا یہ نام رکھا جائے گا خداوند ہماری صداقت۔ اصل میں ہے یھوصدقنو۔ یسعیاؔ ۷ باب ۱۴،۸ باب ۱۰ دیکھو کنواری حاملہ ہوگی اور بیٹا جنے گی اور اس کا نام ایمانوائیل رکھیں گے تم منصوبہ باندھو پر وہ باطل ہوگا۔ حکم سناؤ پر وہ نہ ٹھہرے گا کہ خدا ہمارے ساتھ ہے۔ اس جگہ لفظ ایمانوایل ہے۔ یسعیا ۴۰ باب ۳۔ ملاکی ۳ باب ۱ بمقابلہ متی ۳ باب۳ زکریا ۱۲ باب۱و۱۰ بمقابلہ یوحنا۱۹باب ۳۷یسعیا۶باب ۵بمقابلہ یوحنّا ۱۲ باب ۳۷و۴۰و۴۱۔
دوم الوہیت کی لازمی صفات المسیح میں
اوّل ازلیّت یوحنّا ۱ باب ۱ سے ۳ تک۔ ابتدا میں کلام تھا اور کلام خدا کے ساتھ تھا اور کلام خدا تھایہی ابتدا میں خدا کے ساتھ تھا سب چیزیں اس سے موجود ہوئیں اور کوئی چیز موجودہ نہ تھی جو بغیر اس کے ہوئی۔ یوحنّا ۸ باب ۵۸۔ یسوع نے انہیں کہا میں تم سے سچ سچ کہتا ہوں پیشتر اس سے کہ ابراہام ہو میں ہوں۔ مکاشفات ۱ باب ۸۔ خداوندیوں فرماتا ہے کہ میں الفا اومیگا اول اور آخر جو ہے اور تھا اور آنے والا ہے قادر مطلق ہوں۔ یوحنّا ۱۷ باب ۵۔ یسعیا ۴۴ باب ۶