بمقابلہ مکاشفات ۲ باب ۸ ومیکہ ۵ باب ۲۰۔
دوم۔ خالقیت یوحنّا۳ و۱۱۰ سب چیزیں اس سے موجود ہوئیں کوئی چیز موجود نہ تھی جو بغیر اس کے ہوئی وہ جہان میں تھا اور جہان اسی سے موجود ہوا۔ اور جہان نے اسے نہ جانا۔ عبرانی۲و۳ ۱ان آخری دنوں میں ہم سے بیٹے کے وسیلہ سے بولا جس نے اس کو ساری چیزوں کا وارث ٹھہرایا اور جس کے وسیلے اس نے عالم بنائے وہ اس کے جلال کی رونق اور اس کی ماہیت کا نقش ہوکے سب کچھ اپنی ہی قدرت کے کلام سے سنبھال لیتا ہے۔ قلسی ۱۵و۱۱۶و۱۷ افسی ۳۹ مکاشفات ۴۱۱ ان سب کا مقابلہ ۱مثال ۸ باب سے۔
تیسرامحافظ کل ہستی
قلسی ۱۱۷ وہ سب سے آگے ہے اور اس سے ساری چیزیں بحال رہتی ہیں بمقابلہ یسعیا ۲۴ ۴۴عبرانی۱و۲و۳و۱۱۰
چوتھالا تبدیل عبرانی ۱۸ ۱۳یسوع مسیح کل اور آج اور ابد تک ایک سال ہے۔ مزمور ۲۵و۱۰۲۲۶و۲۷مقابلہ عبرانی ۸و۱۰و۱۱و۱۱۲
پانچواںؔ ہمہ دانیپہلا سلاطین۳۹ ۸تو اپنے مسکن آسمان پر سے سن اور بخش دے اور عمل کر اور ہر ایک آدمی کو جس کے دل کوتو جانتا ہے اس کی سب روش کے مطابق بدلہ دے اس لئے کہ تو ہاں تو ہی اکیلا سارے بنی آدم کے دلوں کو جانتا ہے۔ (یہ خدا تعالیٰ کی تعریف ہے)۔ بمقابلہ مکاشفات ۲۳ ۲اور سارے کلیساؤں کو معلوم ہوگا کہ میں وہی ہوں یعنی یسوع مسیح جو دلوں اور گردوں کا جانچے والا ہوں اور میں تم میں سے ہر ایک کو اس کے کاموں کے موافق بدلا دوں گا۔ متی ۲۷ و۱۱ ۹۴و ۲۵ ۲۱ لوقا ۸ ۶۔ ۹۴۷
یوحنّا ۱۴۸ ۔ ۱۶۳۰۔ ۲۱۱۷ قلسی ۳ ۲ ۔
ششم حاضر و ناظر (مکانی) متی ۲۰ ۱۸کیونکہ جہاں دو یا تین میرے نام پر اکٹھے ہوں۔