قوموں اور تمام زمانوں کی تعلیم اور تکمیل کے لئے آیا ہے مثلاً نظیر کے طور پر بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت موسیؑ کی تعلیم بڑا زور سزا دہی اور انتقام میں پایا جاتا ہے جیسا کہ دانت کے عوض دانت اور آنکھ کے عوض آنکھ کے فقروں سے معلوم ہوتا ہے۔ اور حضرت مسیح ؑ کی تعلیم میں بڑا زور عفواور درگذر پر پایا جاتا ہے لیکن ظاہر ہے کہ یہ دونوں تعلیمیں ناقص ہیں نہ ہمیشہ انتقام سے کام چلتا ہے اور نہ ہمیشہ عفو سے بلکہ اپنے اپنے موقعہ پر نرمی اور درشتی کی ضرورت ہوا کرتی ہے جیسا کہ اللہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے ۱(س۵ر۵) یعنی اصل بات تو یہ ہے کہ بدی کا عوض تو اسی قدر بدی ہے جو پہنچ گئی ہے لیکن جو شخص عفو کرے اور عفو کا نتیجہ کوئی اصلاح ہو نہ کہ کوئی فساد۔ یعنی عفو اپنے محل پر ہو نہ غیر محل پر۔ پس اجر اس کا اللہ پر ہے یعنی یہ نہایت احسن طریق ہے۔
ابؔ دیکھئے اس سے بہتر اور کونسی تعلیم ہوگی کہ عفو کو عفو کی جگہ اور انتقام کو انتقام کی جگہ رکھا۔ا ور پھر فرمایا۲(س۱۴۔ر۱۹) یعنی اللہ تعالیٰ حکم کرتا ہے کہ تم عدل کرو اور عدل سے بڑھ کر یہ ہے کہ باوجود رعایت عدل کے احسان کرو اور احسان سے بڑھ کریہ ہے کہ تم ایسے طور سے لوگوں سے مروت کرو کہ جیسے کہ گویا وہ تمہارے پیارے اورذوالقربیٰ ہیں۔اب سوچنا چاہیے کہ مراتب تین ہی ہیں۔ اول انسان عدل کرتا ہے یعنی حق کے مقابل حق کی درخواست کرتا ہے۔ پھر اگر اس سے بڑھے تو مرتبہ احسان ہے۔اور اگر اس سے بڑھے تو احسان کو بھی نظر انداز کر دیتا ہے اور ایسی محبت سے لوگوں کی ہمدردی کرتاہے جیسے ماں اپنے بچہ کی ہمدردی کرتی ہے یعنی ایک طبعی جوش سے نہ کہ احسان کے ارادہ سے۔ (باقی آئندہ)
دستخط بحروف انگریزی دستخط بحروف انگریزی
غلام قادر فصیح۔ پریزیڈنٹ ہنری مارٹن کلارک۔ پریزیڈنٹ
ازجانب اہل اسلام ازجانب عیسائی صاحبان