کو کمال تک پہنچاتا ہے اور مالک یوم الدین بھی ہے کہ ہر ایک جزا سزا اس کے ہاتھ میں ہے جس طرح پر چاہے اپنے بندہ سے معاملہ کرے۔ چاہے تو اس کو ایک عمل بد کے عوض میں وہ سزا دیوے جو اس عمل بد کے مناسب حال ہے اور چاہے تو اس کے لئے مغفرت کے سامان میسّر کرے اور یہ تمام امور اللہ جلّ شانہٗ کے اس نظام کو دیکھ کر صاف ثابت ہوتے ہیں۔ پھر تیسری نشانی جو اللہ تعالیٰ نے یہ فرمائی تؤتی اکلھا کل حین یعنی کامل کتاب کی ایک یہ بھی نشانی ہے کہ جس پھل کا وہ وعدہ کرتی ہے وہ صرف وعدہ ہی وعدہ نہ ہو بلکہ وہ پھل ہمیشہ اورؔ ہر وقت میں دیتی رہے۔ اور پھل سے مراد اللہ جلّ شانہٗ نے اپنا لقامعہ اس کے تمام لوازم کے جو برکات سماوی اور مکالمات الٰہیہ اور ہر ایک قسم کی قبولیتیں اور خوارق ہیں رکھی ہیں جیسا کہ خود فرماتا ہے۔(س۲۴ر۱۸) وہ لوگ جنہوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر انہوں نے استقامت اختیار کی یعنی اپنی بات سے نہ پھرے اور طرح طرح کے زلازل ان پر آئے مگر انہوں نے ثابت قدمی کو ہاتھ سے نہ دیا۔ ان پر فرشتے اترتے ہیں یہ کہتے ہوئے کہ تم کچھ خوف نہ کرو اور نہ کچھ حزن اور اس بہشت سے خوش ہو جس کا تم وعدہ دیئے گئے تھے یعنی اب وہ بہشت تمہیں مل گیا اور بہشتی زندگی اب شروع ہوگئی۔ کس طرح شروع ہوگئی نحن اولیاء کم الخ اس طرح کہ ہم تمہارے متولّی ور متکفل ہوگئے اس دنیا میں اور آخرت میں اور تمہارے لئے اس بہشتی زندگی میں جو کچھ تم مانگو وہی موجود ہے یہ غفور رحیم کی طرف سے مہمانی ہے۔ مہمانی کے لفظ سے اس پھل کی طرف اشارہ کیا ہے جو آیت 3 3 ۲؂ میں فرمایا گیا تھا۔ اور آیت3 ۳؂ کے متعلق ایک بات ذکر کرنے سے رہ گئی کہ کمال اس تعلیم کا باعتبار اس کے انتہائی درجہ ترقی کے کیونکر ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ قرآن شریف سے پہلے جس قدر تعلیمیں آئیں درحقیقت وہ ایک قانون مختص القوم یا مختلف الزمان کی طرح تھیں اور عام افادہ کی قوت ان میں نہیں پائی جاتی تھی۔ لیکن قرآن کریم تمام