یعنی تحقیق آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے او ررات اور دن کے اختلاف اور ان کشتیوں کے چلنے میں جو دریا میں لوگوں کے نفع کے لئے چلتی ہیں اور جو کچھ خدا نے آسمان سے پانی اتارا اور اس سے زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کیا۔ اور زمین میں ہر ایک قسم کے جانور بکھیر دیئے اور ہواؤں کو پھیرا اور بادلوں کو آسمان اور زمین میں مسخرؔ کیا۔ یہ سب خدا تعالیٰ کے وجود اور اس کی توحید اور اس کے الہام اور اس کے مدبّر بالارادہ ہونے پر نشانات ہیں۔ اب دیکھئے اس آیت میں اللہ جلّ شانہٗ نے اپنے اس اصول ایمانی پر کیسا استدلال اپنے اس قانون قدرت سے کیا یعنی اپنی ان مصنوعات سے جو زمین و آسمان میں پائی جاتی ہیں جن کے دیکھنے سے مطابق منشاء اس آیت کریمہ کے صاف صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ بیشک اس عالم کا ایک صانع قدیم اور کامل اور وحدہٗ لاشریک اور مدبر بالارادہ اور اپنے رسولوں کو دنیا میں بھیجنے والا ہے وجہ یہ کہ خدا تعالیٰ کی تمام یہ مصنوعات اور یہ سلسلہ نظام عالم کا جو ہماری نظر کے سامنے موجود ہے۔ یہ صاف طور پر بتلا رہا ہے کہ یہ عالم خود بخود نہیں بلکہ اس کا ایک موجد اور صانع ہے جس کے لئے یہ ضروری صفات ہیں کہ وہ رحمان بھی ہو اور رحیم بھی ہو اور قادر مطلق بھی ہو اور واحد لا شریک بھی ہو اور ازلی ابدی بھی ہو اور مد ّ بر بالارادہ بھی ہو اور مستجمع جمیع صفات کاملہ بھی ہو اور وحی کو نازل کرنے والا بھی ہو۔ دوسری نشانی یعنی فرعھا فی السماء جس کے معنے یہ ہیں کہ آسمان تک اس کی شاخیں پہنچی ہوئی ہیں اور آسمان پر نظر ڈالنے والے یعنی قانون قدرت کے مشاہدہ کرنے والے اس کو دیکھ سکیں اور نیز وہ انتہائی درجہ کی تعلیم ثابت ہو۔ اس کے ثبوت کا ایک حصہ تو اسی آیت موصوفہ بالا سے پیدا ہوتا ہے کس لئے کہ جیسا کہ اللہ جلّ شانہٗ نے مثلاً قرآن کریم میں یہ تعلیم بیان فرمائی ہے کہجس کے یہ معنے ہیں کہ اللّٰہجَلَّ شَانَہٗ تمام عالموں کا رب ہے یعنی علۃ العلل ہر ایک ربوبیت کا وہی ہے۔ دوسری یہ کہ وہ رحمان بھی ہے یعنی بغیر ضرورت کسی عمل کے اپنی طرف سے طرح طرح کے آلاء اور نعماء شامل حال اپنی مخلوق کے رکھتا ہے اور رحیم بھی ہے کہ اعمال صالحہ کے بجالانے والوں کا مددگار ہوتا ہے اور ان کے مقاصد