ہیں اور آپ کو بخوبی معلوم ہے کہ کیونکر ایک حاکم بحیثیت اپنی حکومت کے متخاصمین میں فیصلہ کیا کرتا ہے۔ کیا آپ نے کبھی ایسا بھی کیا ہے کہ صرف ڈگری یا ڈسمس کا حکم سنا کر روبکار اخیر کا لکھنا جس میں مدلل وجوہات سے صادق کو صادق اور کاذب کو کاذب ٹھہرایا جاوے فضول سمجھا ہو اور یہ تو دنیا کا کام ہے اس کے نقصان میں بھی چنداں ہرج نہیں ہے۔ لیکن اس خدا تعالیٰ کا کلام جو غلط فہمی پر جہنم ابدی کے وعید سناتا ہے کیا وہ ایسا ہونا چاہیئے کہ صرف دعویٰ سنا کر ایک عالم کو مصیبت میں ڈال دے اور اس دعویٰ کی براہین اور دلائل جن کا بیان کرنا خود اس کا ذمہ تھا بیان نہ فرماوے۔ کیا اس کی رحیمیت کا یہی تقاضا ہونا چاہئے۔ ماسوا اس کے آپ جانتے ہیں کہ انبیاء اس وقت میں آیا کرتے ہیں کہ جب دنیا تاریکی میں پڑی ہوتی ہے اور عقلیں ضعیف ہوتی ہیں اور فکر ناتمام ہوتے ہیں اور جذبات نفسانیہ کے دخان غلبہ اور جوش میں ہوتے ہیں۔ اب آپ انصاف کریں کہ کیا اس صورت میں خدا تعالیٰ کا حق نہیں ہے کہ وہ اپنے کلام کو ظلمت کے اٹھا ڈالنے کے لئے مدلل طور پر پیش کرے اور ظلمت سے نکالے نہ یہ کہ گول مول اور پیچیدہ بیانات پیش کرکے اور بھی ظلمت اور حیرت میں ڈال دیوے۔ ظاہر ہے کہ حضرت مسیحؑ سے پہلے یہود لوگ بنی اسرائیل سیدھے سادے طور پر خدا تعالیٰ کو مانتے تھے اور اس ماننے میں وہ بڑے مطمئن تھے اور ہر ایک دل بول رہا تھا کہ خداؔ حق ہے جو زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا اور مصنوعات کا صانع حقیقی ہے اور واحدلا شریک ہے اور کسی قسم کا دغدغہ خدا شناسی میں کسی کو نہ تھا۔ پھر جب حضرت مسیحؑ تشریف لائے تو وہ آنحضرت علیہ السلام کے بیانات سن کر گھبرا گئے کہ یہ شخص کس خدا کو پیش کررہا ہے۔ توریت میں تو ایسے خدا کا کوئی پتہ نہیں لگتا۔ تب حضرت مسیحؑ نے کہ خدا تعالیٰ کے سچے نبی اور اس کے پیارے اور برگزیدہ تھے۔ اس وہم باطل کو دور کرنے کے لئے کہ یہودیوں نے بباعث کو تہ اندیشی اپنی کے اپنے دلوں میں جما لیا تھا ۔وہ اپنے کلمات مبارکہ پیش کئے جو یوحنا ۱۰ باب ۲۹ - ۳۰ آیت میں موجود ہیں چنانچہ وہ عبارت بجنسہٖ ذیل میں لکھ دی جاتی ہے چاہئے کہ تمام حاضرین حضرت مسیحؑ کی اس عبارت کو غور سے اور توجہ سے سنیں کہ ہم میں اور حضرات عیسائی صاحبوں میں پورا پورا فیصلہ دیتی ہے اور وہ یہ ہے۔