میرا باپ جس نے انہیں مجھے دیا ہے سب سے بڑا ہے اور کوئی انہیں میرے باپ کے ہاتھ سے چھین نہیں لے سکتا میں اور باپ ایک ہیں۔ تب یہودیوں نے پھر پتھر اٹھائے کہ اس پر پتھراؤ کریں۔ یسوع نے انہیں جواب دیا کہ میں نے اپنے باپ کے بہت سے اچھے کام تمہیں دکھائے ہیں ان میں سے کس کام کے لئے تم مجھے پتھراؤ کرتے ہو۔ یہودیوں نے اسے جواب دیا اور کہا کہ ہم تجھے اچھے کام کے لئے نہیں بلکہ اس لئے تجھے پتھراؤ کرتے ہیں کہ تو کفر بکتا ہے اور انسان ہو کے اپنے تئیں خدا بناتا ہے یسوع نے انہیں جواب دیا کیا تمہاری شریعت میں یہ نہیں لکھا ہے کہ میں نے کہا تم خدا ہو جب کہ اس نے انہیں جن کے پاس خدا کا کلام آیا خدا کہا اور ممکن نہیں کہ کتاب باطل ہو تم اسے جسے خدا نے مخصوص کیا اور جہان میں بھیجا کہتے ہو کہ تو کفر بکتا ہے کہ میں نے کہا میں خدا کا بیٹا ہوں۔
اب ہر ایک منصف اور ہر ایک متد ّ ین سمجھ سکتا ہے کہ یہودیوں کا یہ اعتراض تھا کہ انہوں نے باپ کا لفظ سن کر اور یہ کہ میں اور باپ ایک ہیں یہ خیال کر لیا کہ یہ اپنے تئیں خدا تعالیٰ کا حقیقی طور پر بیٹا قرار دیتا ہے تو اس کے جواب میں حضرت مسیحؑ نے صاف صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ مجھ میں کوئی زیادہ بات نہیں۔ دیکھو تمہارے حق میں تو خدا کا اطلاق بھی ہوا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ اگر حضرت مسیحؑ درحقیقت اپنے تئیں ابن اللہ جانتے اور حقیقی طور سے اپنے تئیں خدا تعالیٰ کا بیٹا تصوّر کرتے تو اس بحث اور پرخاش کے وقت میں جب یہودیوں نے ان پر الزام لگایا تھا مرد میدان ہوکر صاف اور کھلے کھلے طور پر کہہ دیتے کہ میں درحقیقت ابن اللہ ہوں اور حقیقی طور پر خدا تعالیٰ کا بیٹا ہوں۔ بھلا یہ کیا جواب تھا کہ اگر میں اپنے تئیںؔ بیٹا قرار دیتا ہوں تو تمہیں بھی تو خدا کہا گیا ہے بلکہ اس موقعہ پر تو خوب تقویت اپنے اثبات دعویٰ کی ان کو ملی تھی کہ وہ بقول ڈپٹی صاحب وہ تمام پیشین گوئیاں پیش کر دیتے جو ڈپٹی صاحب موصوف نے اپنے کل کے جواب میں لکھائی ہیں۔ بلکہ ایک فہرست بھی ساتھ دے دی ہے اور انہیں اس وقت کہنا چاہیئے تھا کہ تم تو اسی قدر بات پر ناراض ہوگئے کہ میں نے کہا کہ میں خدا کا بیٹا ہوں۔ اور میں تو بموجب بیان تمہاری کتابوں کے اور بموجب فلاں فلاں پیشگوئی کے خدا بھی ہوں۔ قادر مطلق بھی ہوں خدا کا ہمتا بھی ہوں۔ کونسا مرتبہ خدائی کا ہے جو مجھ میں نہیں ہے۔ غرض کہ یہ مقام