توڑ کر بحیثیت خدائی و ابنیت خدا تعالیٰ دنیا میں آنا ثابت کر دکھلاویں پھر کوئی وجہ انکار کی نہ ہوگی کیونکہ سلسلہ استقراء کے مخالف جب کوئی امر ثابت ہو جائے تو وہ امر بھی قانون قدرت اور سنت اللہ میں داخل ہوجاتا ہے سو ثابت کرنا چاہیئے۔ مگر دلائل عقلیہ سے پھر مسٹر عبداللہ آتھم صاحب فرماتے ہیں کہ الہام چاہیئے کہ اپنی شرح آپ کرے سو واضح ہو کہ اس میں ہمارا اتفاق رائے ہے۔ بیشک الہام صحیح اور سچے کے لئے یہی شرط لازمی ہے کہ اس کے مقامات مجملہ کی تفصیل بھی اسی الہام کے ذریعہ سے کی جائے جیسا کہ قرآن کریم میں یعنی سورہ فاتحہ میں یہ آیت ہے۔ ۱؂ اب اس آیت میں جو3کا لفظ ہے یہ ایک مجمل لفظ تھا اور تشریح طلب تھا تو خدا تعالیٰ نے دوسرے مقام میں خود اس کی تشریح کر دی اور فرمایا کہ ۲؂ (سیپارہ ۵ ر ۶) اور پھر ڈپٹی صاحب موصوف اپنی عبارت میں جس کا خلاصہ لکھتا ہوں یہ فرماتے ہیں کہ الہام الٰہی کے لئے یہ ضروری نہیں کہ وہ اپنے دعاوی کو دلائل عقلیہ سے ثابت کرے بلکہ اس کے لئے صرف بیا ن کر دینا کافیؔ ہوگا اور پھر اس کتاب کے پڑھنے والے دلائل آپ پیدا کر لیں گے۔ یہ بیان ڈپٹی صاحب کا اس روک اور حفاظت خود اختیاری کیلئے ہے کہ میں نے یہ دلیل پیش کی تھی کہ خدا تعالیٰ کی سچی کتاب کی یہ ضروری علامت اور شرط ہے کہ وہ دعویٰ بھی آپ کرے اور اس دعویٰ کی دلیل بھی آپ بیان فرماوے تاکہ ہر ایک پڑھنے والا اس کا دلائل شافیہ پاکر اس کے دعاوی کو بخوبی سمجھ لیوے اور دعویٰ بلا دلیل نہ رہے کیونکہ یہ ہر ایک متکلّم کا ایک نقص سمجھا جاتا ہے کہ دعاوی کرتاچلا جائے اور ان پر کوئی دلیل نہ لکھے۔ اب ڈپٹی صاحب موصوف کو یہ شرط سن کر یہ فکر پڑی کہ ہماری انجیل اس مرتبہ عالیہ سے خالی ہے اور وہ کسی صورت میں قرآن کریم کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ بہتر ہے کہ کسی طرح سے اس کو ٹال ہی دیا جائے سو میری دانست میں ڈپٹی صاحب موصوف کا انجیل شریف پر یہ ایک احسان ہے جو آپ اس کی پردہ پوشی کی حمایت میں لگے ہوئے ہیں۔ افسوس کہ آپ نے ان کلمات کے لکھتے وقت اس بات کی طرف تو جہ نہیں فرمائی کہ آپ ایک زمانہ دراز تک اکسٹرا اسسٹنٹ رہ چکے