نام ابناء اللہ رکھا تو اس سے مراد یک من ہونا تھا۔ اور جب مسیح علیہ السلام کا نام ابن اللہ کہا۔ تو اس کا لقب یک تن رکھ دیا۔ میری دانست میں تو اور انبیاء حضرت مسیح علیہ السلام سے اس القاب یابی میںؔ بڑھے ہوئے ہیں۔ کیونکہ حضرت مسیحؑ خود اس بات کا فیصلہ کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ میرے ابن اللہ کہنے میں تم کیوں رنجیدہ ہوگئے یہ کونسی بات تھی زبور میں تو لکھا ہے کہ تم سب الہ ہو۔
حضرت مسیحؑ کے اپنے الفاظ جو یوحنا ۱۰باب۳۵ میں لکھے ہیں یہ ہیں کہ میں نے کہاتم خدا ہو جبکہ اس نے انہیں جن کے پاس خدا کا کلام آیا خدا کہا اور ممکن نہیں کہ کتاب باطل ہو تم اسے جسے خدا نے مخصوص کیا اور جہان میں بھیجا کہتے ہو کہ تو کفر بکتا ہے کہ میں خدا کا بیٹا ہوں۔ اب منصف لوگ اللہ تعالیٰ سے خوف کرکے ان آیات پر غور کریں کہ کیا ایسے موقعہ پر کہ حضرت مسیحؑ کی ابنیت کے لئے سوال کیا گیا تھا حضرت مسیحؑ پریہ بات فرض نہ تھی کہ اگر وہ حقیقت میں ابن اللہ تھے تو انہیں یہ کہنا چاہئے تھا کہ دراصل خدا تعالیٰ کا بیٹا ہوں اور تم آدمی ہو۔ مگر انہوں نے تو ایسے طور سے الزام دیا جسے انہوں نے مہر لگا دی کہ میرے خطاب میں تم اعلیٰ درجہ کے شریک ہو مجھے تو بیٹا کہا گیا اور تمہیں خدا کہا گیا۔
پھر صاحب موصوف فرماتے ہیں کہ توریت میں اگرچہ دوسروں کو بھی بیٹا کہا گیا ہے مگر مسیحؑ کی بہت بڑھ کر تعریفیں کی گئی ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تعریفیں مسیح کے حق میں اس وقت قابل اعتبار سمجھی جائیں گی جس وقت ہماری شرائط پیش کردہ کے موافق اس کو ثابت کر دو گے۔ اور دوسری یہ کہ حضرت مسیح علیہ السلام یوحنا ۱۰ باب میں آپ کی تاویل کے مخالف اور ہمارے بیان کے موافق ہیں۔ اور یہ خیالات آپ کے حضرت مسیح علیہ السّلام نے خود ردّ فرما دیئے ہیں۔
بقیہ کا جواب آپ کے جواب کے بعد لکھا جائے گا۔
دستخط بحروف انگریزی دستخط بحروف انگریزی
غلام قادر۔ فصیح ہنری مارٹن کلارک
پریزیڈنٹ ازجانب اہل اسلام پریزیڈنٹ ازجانب عیسائی صاحبان