دفعہؔ ۲ میں موسیٰ کی جھاڑی کی تمثیل پیش کی ہے۔ یہ محل متنازعہ فیہ سے کچھ علاقہ نہیں رکھتی۔ صاحب موصوف مہربانی فرما کر قرآن کریم سے ثابت کرکے دکھلاویں کہ کہاں لکھا ہے کہ وہ آگ ہی خدا تھی یا آگ ہی میں سے آواز آئی تھی۔ بلکہ خدا تعالیٰ قرآن شریف میں صاف فرماتا ہے۔ ۱ (سورۂ نملس۱۹۔ر ۱۶) یعنی جب موسیٰ آیا تو پکارا گیا کہ برکت دیا گیا ہے جو آگ میں ہے اور جو آگ کے گرد ہے اور اللہ تعالیٰ پاک ہے تجسم اور تحیز سے اور وہ رب ہے تمام عالموں کا۔ اب دیکھئے اس آیت میں صاف فرما دیا کہ جو آگ میں ہے اور جو اس کے گرد میں ہے اس کو برکت دی گئی۔ اور خداتعالیٰ نے پکارکر اس کو برکت دی۔ اس سے معلوم ہوا کہ آگ میں وہ چیز تھی جس نے برکت پائی نہ کہ برکت دینے والا۔ وہ تو نودیکے لفظ میں آپ اشارہ فرمارہا ہے کہ اس نے آگ کے اندر اور گرد کو برکت دی۔ اس سے ثابت ہوا کہ آگ میں خدا نہیں تھا اور نہ مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے بلکہ اللہ جلّ شانہٗ اس وہم کا خود دوسری آیت میں ازالہ فرماتا ہے۔ یعنی خدا تعالیٰ اس حلول اور نزول سے پاک ہے وہ ہر ایک چیز کا ربّ ہے۔
اور اسی طرح خروج ۳باب آیت ۲ میں لکھا ہے کہ اس وقت خدا وند کا فرشتہ ایک بوٹے میں سے آگ کے شعلے میں سے اس پر ظاہر ہوا۔ اور مسٹر عبداللہ آتھم صاحب جو تحریر فرماتے ہیں کہ قرآن میں اس موقعہ پر یہ بھی لکھا ہے۔ ’’میں تیرے باپ اسحاقؑ اور ابراہیمؑ اور یعقوبؑ کا خدا ہوں‘‘۔ یہ بیان سراسر خلاف واقع ہے۔ قرآن میں ایسا کہیں نہیں لکھا۔ اگر صاحب موصوف کے حوالجات کا ایسا ہی حال ہے کہ ایک خلاف واقعہ امر جرأت کے ساتھ تحریر فرما دیتے ہیں تو پھر وہ حوالجات جو توریت اور انجیل کے تحریر فرمائے ہیں وہ بھی کتابیں پیش کرکے ملاحظہ کے لائق ہوں گی۔
اور پھر صاحب موصوف تحریر فرماتے ہیں کہ توریت میں مسیح کو یک تن اور انبیاء کو یک من کرکے لکھا ہے۔
میں کہتاہوں کہ توریت میں نہ تو کہیں یک تن کالفظ ہے اورنہ یک من کا۔ صاحب موصوف کی بڑی مہربانی ہوگی کہ بتشریح توریت کے روسے ثابت کریں کہ توریت نے جب دوسرے انبیاء کا