کی کیا ضرورت ہے۔ کیا ہم انسان کو مظہر انسان کہا کرتے ہیں۔ایسا ہی اگر حضرت مسیحؑ کی روح انسانی روح کی سی نہیں ہے اور انہوں نے مریم صدیقہ کے رحم میں اس طریق اور قانون قدرت سے روح حاصل نہیں کی جس طرح انسان حاصل کرتے ہیں۔ اور جو طریق طبابت اور ڈاکٹری کے ذریعہ سے مشاہدہ میں آچکا ہے۔ تو اول تو یہ ثبوت دینا چاہئے کہ ان کے جنین کا نشوونما پانا کسی نرالے طریق سے تھا اور پھر بعد اس کے اس عقیدہ کو چھپ چھپ کر خوفزدہ لوگوں کی طرح اور پیراؤں اور رنگوں میں کیوں ظاہر کریں۔ بلکہ صاف کہہ دینا چاہئے کہ ہمارا خدا مسیح ہے اور کوئی دوسرا خدا نہیں ہے جس حالت میں خدا اپنی صفات کاملہ میں تقسیم نہیں ہوسکتا اور اگر اس کی صفات تامہ اور کاملہ میں سے ایک صفت بھی باقی رہ جائے تب تک خدا کا لفظ اس پر اطلاق نہیں کرسکتے۔
تو اس صورت میں میری سمجھ میں نہیں آسکتا کہ تین کیونکر ہوگئے۔ جب آپ صاحبوں نے اس بات کو خود مان لیا اور تسلیم کر لیا ہے کہ خدا تعالیٰ کے لئے ضروری ہے کہ وہ مستجمعجمیع صفات کاملہ ہو تو اب یہ تقسیم جو کی گئی ہے کہ ابن اللہ کامل خدا۔ اور باپ کامل خدا۔ اور روح القدس کامل خدا اس کے کیامعنے ہیں اور کیا وجہ ہے کہ یہ تین نام رکھے جاتے ہیں۔ کیونکہ تفریق ناموں کی اس بات کوچاہتی ہے کہ کسی صفت کی کمی و بیشی ہو۔
مگر جب کہ آپ مان چکے کہ کسی صفت کی کمی و بیشی نہیں تو پھر وہ تینوں اقنوم میں مابہ الامتیاز کون ہے جو ابھی تک آپ لوگوں نے ظاہر نہیں فرمایا۔ جس امر کو آپ مابہ الامتیاز قرار دیں گے وہ بھی منجملہ صفات کاملہ کے ایک صفت ہوگی جو اس ذات میں پائی جانی چاہئے جو خدا کہلاتا ہے۔ اب جب کہ اس ذات میں پائی گئی جو خدا قرار دیا گیا تو پھر اس کے مقابل پر کوئی اور نام تجویز کرنا یعنی ابن اللہ کہنا یا روح القدس کہنا بالکل لغو اور بے ہودہ ہو جائے گا۔
آپ صاحب اس میرے بیان کو خوب سوچ لیں کیونکہ یہ دقیق مسئلہ ہے ایسا نہ ہو کہ جواب لکھنے کے وقت یہ امور نظر انداز ہوجائیں۔ خدا وہ ذات ہے جو مستجمع جمیع صفات کاملہ ہے اور غیر کا محتاج نہیں اور اپنے کمال میں دوسرے کا محتاج نہیں اور جو مسٹر عبداللہ آتھم صاحب نے