بقیہ بیانِ جواب حضرت مرزا صاحب میرا جواب جو ناتمام رہ گیا تھا اب بقیہ حصہ اس کا لکھواتا ہوں۔ مسٹر عبداللہ آتھم صاحب فرماتے ہیں ’’جو ہم جسمانی چیز کو جو مظہر اللہ تھی اللہ نہیں مانتے اور ہم نے ابن اللہ کو جسم نہیں مانا۔ ہم تو اللہ کو روح جانتے ہیں‘‘۔ صاحب موصوف کا یہ بیان بہت پیچیدہ اور دھوکہ دینے والا ہے۔ صاحب موصوف کو صاف لفظوں میں کہنا چاہئے تھا کہ ہم حضرت عیسٰیؑ کو خدا جانتے ہیں اور ابن اللہ مانتے ہیں کیونکہ یہ بات تو ہر ایک شخص سمجھتا اور جانتا ہے کہ جسم کو ارواح کے ساتھ ایسا ضروری تلازم نہیں ہے کہ تاجسم کو حصہ دار کسی شخص کا ٹھہرایا جائے مثلاً انسان کو جو ہم انسان جانتے ہیں تو کیا بوجہ اس کے ایک خاص جسم کے جو اس کو حاصل ہے انسان سمجھا جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ خیال تو ببداہت باطل ہے کیونکہ جسم ہمیشہ معرض تحلل میں پڑا ہوا ہے چند برس کے بعد گویا پہلا جسم دور ہوکر ایک نیا جسم آجاتا ہے اس صورت میں حضرت مسیحؑ کی کیا خصوصیت ہے۔ کوئی انسان بھی باعتبار جسم کے انسان نہیں ہے بلکہ باعتبار روح کے انسان کہلاتا ہے۔ اگر جسم کی شرط ضروری ہوتی تو چاہئے تھا کہ مثلاً زید جو ایک انسان ہے ساٹھ برس کی عمر پانے کے بعد زید نہ رہتا بلکہ کچھ اور بن جاتا کیونکہ ساٹھ برس کے عرصہ میں اس نے کئی جسم بدلے۔ یہی حال حضرت مسیحؑ کا ہے جو جسم مبارک ان کو پہلے ملا تھا جس کے ساتھ انہوں نے تولد پایا تھا وہ تو نہ کفارہ ہوسکا اور نہ کسی کام آیا۔ بلکہ قریباً تیس برس کے ہوکر انہوں نے ایک اور جسم پایا اور اسی جسم کی نسبت خیال کیا گیا کہ گویا وہ صلیب پر چڑھایا گیا اور پھر ہمیشہ کے لئے خدا تعالیٰ کے داہنے ہاتھ روح کے ساتھ شامل ہوکر بیٹھا ہے۔ اب جب کہ صاف اور صریح طور پر ثابت ہے کہ جسم کو روح کی صفات اور القاب سے کچھ تعلق نہیں اور انسان ہو یا حیوان ہو وہ باعتبار اپنی روح کےؔ انسان یا حیوان کہلاتا ہے اور جسم ہر وقت معرض تحلل میں ہے تو اس صورت میں اگر حضرات عیسائی صاحبان کا یہی عقیدہ ہے کہ مسیح درحقیقت خدا تعالیٰ ہے۔ تو مظہر اللہ کہنے