یسعیا ۶ باب اسے ۱۲ بمقابلہ یوحنّا ۱۲ باب ۴۰،۴۱۔ اعمال ۲۸ باب ۲۶۔ پھر یسعیا ۴۰ باب ۳ ملاکی ۳ باب ۱ بمقابلہ متی ۳ باب ۳۔ زکریا ۱۲ باب ۱و ۱۰ بمقابلہ یوحنّا ۱۹ باب ۳۷۔ یرمیا ۳۱ باب ۳۱ - ۳۴ بمقابلہ عبرانی ۸ باب ۶ سے ۱۲۔ عبرانی ۱۰ باب ۱۲ سے ۱۹۔ خروج ۱۷ باب ۲ گنتی ۲۰ باب ۳و۴ گنتی ۲۱ باب ۴و۵۔ استثنا ۶ باب ۱۶۔ یہ چاروں مقام بمقابلہ پہلا قرنتی ۱۰ باب ۹ سے ۱۱۔ یسعیا ۴۱ باب۴و۴۴ باب ۶ بمقابلہ مکاشفات۸۔۱۱۱ ۔۱۷و۲۸و۲۱۶و۲۲۱۳ویوئیل۲۳۳بمقابلہ رومی ۹ سے۱۰ ۱۴ و یسعیا۷۱۴ و ۸۱۰ بمقابلہ متی ۱۲۳ زبان عبرانی سے جس امر کی آپ گرفت کریں موجود ہے ابھی پیش کیا جائے گا۔ چوتھا۔ لفظ کمال کی جو جناب گرفت فرماتے ہیں کہ انجیل درخود کامل ہونی چاہئے تو دریافت طلب امر یہ ہے کہ کس امر میں کامل۔ کیا سنار کے کام میں لوہار کے کام میں؟ یہ تو دعویٰ ہی ان کتابوں کانہیں۔ مگر راہ نجات کے دکھلانے کے کام میں یہ دعویٰ ان کا ہے۔ انجیل نے جواس باب میں اپنا کمال دکھلایا وہ ہم پیش کردیتے ہیں۔ چنانچہ لکھا ہے کہ ’’آسمان کے تلے آدمیوں کو کوئی دوسرا نام نہیں بخشا گیا جس سے ہم نجات پاسکیں سوائے مسیح کے‘‘۔ اور رومیوں کے خط میں لکھا ہے اگر نجات فضل سے ہے تو عمل عمل نہیں و اگر نجات عمل سے ہے تو فضل فضل نہیں۔ اس سے پھر وہی امر ثابت ہوا کہ مسیح نے خود کہا کہ ’’راہ حق اور زندگی مَیں ہی ہوں‘‘ (یوحنا ۱۴ باب ۶)۔ اور یادرکھنا چاہئے کہ کلام الٰہی میں اکثر خدا وند یہ فرمایا کرتا ہے کہ َ میں ؔ ہی ہوں۔ مَیں ہوں۔ اور اس کا ایماء اس نام پر ہے جو موسیٰ سے خدا نے کہا کہ میرا نام میں ہوں۔ سو ہوں اور اس نام سے میں پہلے معروف نہ تھا۔ یہ تجھ کو جتایا جاتا ہے۔ (خروج ۳ باب ۱۴ آیت) (قلت وقت کے سبب جواب ناتمام رہا) (دستخط بحروف انگریزی) ہنری مارٹن کلارک (دستخط بحروف انگریزی) غلام قادر فصیح پریزیڈنٹ ازجانب عیسائی صاحبان پریزیڈنٹ ازجانب اہل اسلام