جواب از طرف مسٹر عبداللہ آتھم صاحب مسیحی
اوّل۔ بجواب آپ کے اے مرزا صاحب میرے مکرّم! میں لفظ استقراء کی شرح کا آپ سے طلب گار ہوں۔ کیا اس کی مراد تجربہ یا معمول سے نہیں جو اس کے سوا ہو وہ فرما دیجئے۔
دوم۔ آپ کے دوسرے مقدمہ میں جو آپ فرماتے ہیں کہ الہام شرح اپنی آپ ہی کرے اور اس کو محتاج معقولات کا نہ کیا جائے۔ بہت سا حصہ صحیح ہے مگر سمجھنے کے واسطے الہام اور عقل کی وہی تشبیہ ہے جو آنکھ اور روشنی کی ہے۔ روشنی ہواور آنکھ نہ ہو تو فائدہ نہیں ہے۔ آنکھ گوہو اور روشنی نہ ہو تب بھی فائدہ نہیں۔ سمجھنے کے واسطے عقل درکار ہے اور جس امر کو سمجھیں وہ چاہئے کہ الہامی ہو۔ مراد میری یہ ہے کہ وہ امر جو مدد نہیں پاتا الہام سے اور صرف انسانی خیال کی گھڑت ہو وہ البتہ الہام میں شامل نہیں کیا جائے گا۔ مگر جو الہام میں ہے اور شمع الہامی نیچے رکھی ہوئی ہے تو اس کے واسطے عقل انسانی شمعدان ہوسکتی ہے؟
امر سوم۔ جناب یہودیوں کا اتفاق ہم سے کیوں طلب کرتے ہیں جب کہ لفظ موجود ہیں اور لغت موجودؔ ہے اور قواعد موجود ہیں خود معنی کر لیں جو معنی بن سکیں وہ ٹھیک ہیں۔ لفظ بلفظ کا میں ذمّہ نہیں اٹھا سکتا۔ مگر بالا جمال ساری نبوّتوں کو اس مقدمہ میں مسیح نے اپنے اوپر لیا ہے۔ چنانچہ یوحنا کے ۵ باب ۳۹ آیت میں اور لوقا کے ۲۴ باب ۲۷ آیت میں یہ امر مشرّح ہے۔ یوحنا۔ تم نوشتوں میں ڈھونڈھتے ہو کیونکہ تم گمان کرتے ہو کہ ان میں تمہارے لئے ہمیشہ کی زندگی ہے اور یہ وے ہی ہیں جو مجھے پر گواہی دیتے ہیں اور موسیٰ اور سب نبیوں سے شروع کرکے وہ باتیں جو سب کتابوں میں اس کے حق میں ہیں ان کے لئے تفسیر کیں۔
ماسوا اس کے بعض خاص نبوتیں بھی مسیح پر نوشتوں میں لگائی گئی ہیں۔ چنانچہ متی کے ۲۶ باب ۳۱ آیت میں اس پیش خبری کا جو بابت ہمتا کے ہے حوالہ دیا گیا۔ علٰی ھٰذَاالقیاس بہت سی اور بھی مثالیں ہیں جن کی فہرست ذیل میں دے دیتا ہوں:۔