اپنے تئیں ٹھہرایا ہو ا ور مفسرین کا اس پر اتفاق بھی ہو اور اصل عبری زبان سے اسی طور سے ثابت ہوتی ہوں سو یہ بارثبوت آپ کے ذمہ ہے۔ جب تک آپ اس التزام کے ساتھ اس کو ثابت نہ کردیں تب تک یہ بیان آپ کا ایک دعوے کے رنگ میں ہے جو خود دلیل کا محتاج ہے۔ چونکہ ہمیں ان پیشگوئیوں کی صحت اور پھر صحت تاویل اور پھر صحت ادعاء مسیحؑ میں آپ کے ساتھ اتفاق نہیں ہے اور آپ مدعی صحت ہیں تو یہ آپ پر لازم ہوگا کہ آپ ان مراتب کو مصفّا اور منقح کرکے ایسے طور سے دکھلاویں کہ جس سے ثابت ہو جائے کہ ان پیشگوئیوں کی تاویل میں یہودی جو اصل وارث توریت کے کہلاتے ہیں وہ بھی آپ کے ساتھ ہیں اور کل مفسر بھی آپ کے ساتھ ہیں اور حضرت مسیحؑ نے بھی تمام پیشگوئیاں جو آپ ذکر کرتے ہیں بحوالہ کتاب و باب و آیت پورے طور پر بیان کرکے اپنی طرف منسوب کی ہیں اور آپ کی رائے کے مخالف آج تک کسی وارث توریت نے اختلاف بیان نہیں کیا اور صاف طور پر حضرت مسیحؑ ابن مریم کے بارہ میں جن کو آپ خدائی کے رتبہ پر قرار دیتے ہیں قبول کرؔ لیا ہے اور ان کے خدا ہونے کے لئے یہ ثبوت کافی سمجھ لیا ہے تو پھر ہم اس کو قبول کر لیں گے اور بڑے شوق سے آپ کے اس ثبوت کو سنیں گے۔ لیکن اس نازک مسئلہ کی زیادہ تصریح کے لئے پھر یاد دلاتا ہوں کہ آپ جب تک ان تمام مراتب کو جو میں نے لکھے ہیں بغیر کسی اختلاف کے ثابت کرکے نہ دکھلاویں اور ساتھ ہی یہود کے علماء کی شہادت ان پیشگوئیوں کی بناء پر حضرت ابن مریم کے خدا ہونے کے لئے پیش نہ کریں۔ تب تک یہ قیاسی ڈھکوسلے آپ کے کسی کام نہیں آسکتے۔ دوسرا حصہ اس کا جواب الجواب میں بیان کیا جائے گا۔ اب وقت تھوڑا ہے۔
دستخط بحروف انگریزی دستخط بحروف انگریزی
غلام قادر فصیح (پریزیڈنٹ) ھنری مارٹن کلارک (پریزیڈنٹ)
ازجانب اہل اسلام ازجانب عیسائی صاحبان