بات پر اتفاق ہے کہ صفات الٰہیہ جو اس کے افعال سے متعلق ہیں یعنی خلق وغیرہ سے وہ اپنے مفہوم میں قوت عموم کی رکھتی ہے یعنی ان کی نسبت یہ مان لیا گیا ہے کہ اللہ جلّ شانہٗ ابدی ازلی طور پر ان صفات سے کام لے سکتا ہے۔ مثلاً حضرت آدمؑ کو جو اللہ تعالیٰ نے بغیر ماں باپ کے پیدا کیا ہے تو کیا ہم فریقین میں کوئی اپنی کتاب کی رو سے ثبوت دے سکتا ہے کہ اس طرز کے پیدا کرنے میں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور قوت جو استقراء سے ثابت ہے اس حد تک ختم ہوچکی ہے۔ بلکہ فریقین کی کتابیں اس بات کو ظاہر کر رہی ہیں کہ اللہ جلّ شانہٗ نے جو کچھ پیدا کیا ہے ایسا ہی وہ پھر بھی پیدا کر سکتا ہے جیسا کہ اللہ جلّ شانہٗ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔ ۱؂ (س۲۳ر۴)کیا وہ جس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا اس بات پر قادر نہیں کہ ان تمام چیزوں کی مانند اور چیزیں بھی پیدا کرے بیشک قادر ہے اور وہ خلاق علیم ہے یعنی خالقیت میں وہ کامل ہے اور ہر ایک طور سے پیدا کرنا جانتا ہے۔ حکم اس کا اس سے زیادہ نہیں کہ جب کسی چیز کے ہونے کا ارادہ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ہو پس ساتھ ہی وہ ہو جاتی ہے۔ پس وہ ذات پاک ہے جس کے ہاتھ میں ہر ایک چیز کی بادشاہی ہے اور اسی کی طرف تم پھیرے جاؤ گے۔ پھر ایک دوسرے مقام میں فرماتا ہے۲؂یعنی تمام محامد اللہ کے لئے ثابت ہیں جو تمام عالموں کا رب ہے یعنی اس کی ربوبیت تمام عالموں پر محیط ہے۔ پھر ایک اور مقام میں فرماتا ہے ۳؂ یعنی وہ ہرطرح سے پیدا کرنا جانتا ہے اور ڈپٹی عبداللہ صاحب نے جو چند پیشگوئیاں اپنے تائید دعویٰ میں پیش کی ہیں وہ ہماری شرط سے بالکل مخالف ہیں۔ ہماری شرط میں یہ بات داخل ہے کہ ہر ایک دعویٰ اور دلیل اس کی الہامی کتاب آپ پیش کرے۔ ماسوا اس کے ڈپٹی صاحب کو اس بات کی خوب خبر ہے کہ یہ پیشگوئیاں صرف زبردستی کی راہ سے حضرت مسیحؑ پر جمائی جاتی ہیں اور ایسے طور کی یہ پیشگوئیاں نہیں ہیں کہ اول حضرت مسیحؑ نے آپ پوری پیشگوئی نقل کرکے ان کا مصداق