اورؔ کیا آخرت میں ۔ پھر ایک دوسرے مقام میں فرماتا ہے3333۔۱؂ 3۔۲؂ یعنی کیا وہ شخص جو مُردہ تھا اور ہم نے اس کو زندہ کیا اور ہم نے اس کو ایک نور عطا کیا جس کے ساتھ وہ لوگوں میں چلتا ہے یعنی اُس نور کی برکات لوگوں کو معلوم ہوتی ہیں کیا ایسا آدمی اُس آدمی کی مانند ہو سکتا ہے جو سراسر تاریکی میں اسیر ہے اور اُس سے نکل نہیں سکتا۔ نور اور حیات سے مراد رُوح القدس ہے کیونکہ اُس سے ظلمت دور ہوتی ہے اور وہ دلوں کو زندہ کرتا ہے اِسی لئے اُس کا نام روح القدس ہے یعنی پاکی کی روح جس کے داخل ہونے سے ایک پاک زندگی حاصل ہوتی ہے۔ اور منجملہ اُن آیاتِ قرآنی کے جن سے ثابت ہوتا ہے کہ رُوح القدس وارد ہیں ۔چنانچہ منجملہ ان کے ایک یہی قسم ہے کہ 3۔3۔3۔3 3۔۳؂ اِن آیات میں اصل مدعا اور مقصد یہ ہے کہ ہر یک نفس کی روحانی حفاظت کے لئے ملائک مقرر ہیں*جو ہر دم اور ہر وقت ساتھ رہتے ہیں اورجو حفاظت کا طالب ہو اُس کی حفاظت کرتے ہیں۔ لیکن یہ بیان ایک باریک اور نظری ہے۔ فرشتوں کا وجود ہی غیر مرئی ہے۔ اگرچہ ملائک جسمانی آفات سے بھی بچاتے ہیں لیکن اُن کا بچانا روحانی طور پر ہی ہے مثلًاایک شخص ایک گرنے والی دیوار کے نیچے کھڑا ہے تو یہ تو نہیں کہ فرشتہ اپنے ہاتھوں سے اٹھا کر اُس کو دور لے جائے گا بلکہ اگر اُس شخص کا اُس دیوار سے بچنا مقدر ہے تو فرشتہ اس کے دل میں الہام کر دے گا کہ یہاں سے جلد کھسکنا چاہیئے۔ لیکن ستاروں اور عناصر وغیرہ کی حفاظت جسمانی ہے۔ منہ روح القدس کا کام روحانی زندگی اور روحانی روشنی دلوں میں ڈالنا ہے اس لئے نور اور روح رُوح القدس کا نام ہے۔ ملائک خواہ جسمانی آفات سے بچاویں اور خواہ روحانی آفات سے دونوں حالتوں میں ان کا بچانا روحانی طور پر ہے ۱؂ الانعام:۱۲۳ ۲؂ فاطر:۲۳ ۳؂ الطارق:۲ تا