ہمیشہؔ کے لئے خداتعالیٰ کے ملہم بندوں کے ساتھ رہتا ہے اور انہیں علم اور حکمت اور پاکیزگی کی تعلیم کرتا ہے یہ آیت کریمہ ہے 33 33 ۱ سورۃ المجادلہ یعنی اُن مومنوں کے دلوں میں خداتعالیٰ نے ایمان کو لکھ دیا اور روح القدس سے ان کو مدد دی۔ دل میں ایمان کے لکھنے سے یہ مطلب ہے کہ ایمان فطرتی اور طبعی ارادوں میں داخل ہو گیا اور جُزوِ طبیعت بن گیا اور کوئی تکلّف اور تصنّع درمیان نہ رہا۔ اور یہ مرتبہ کہ ایمان دل کے رگ و ریشہ میں داخل ہو جائے اُس وقت انسان کو ملتا ہے کہ جب انسان روح القدس سے مؤیّد ہو کر ایک نئی زندگی پاوے اور جس طرح جان ہر وقت جسم کی محافظت کے لئے جسم کے اندر رہتی ہے اور اپنی
پھر اُن کی حفاظت پر کیونکر یقین آوے اس لئے خداوند کریم و حکیم نے اپنے قانون قدرت کو جو اجرامِ سماوی میں پایا جاتا ہے۔ اِس جگہ قَسم کے پَیرایہ میں بطور شاہد کے پیش کیا اور وہ یہ ہے کہ قانونِ قدرت خداتعالیٰ کا صاف اور صریح طور پر نظر آتا ہے کہ آسمان اور جو کچھ کواکب اور شمس اور قمر اور جو کچھ اُس کے پول میں ہوا وغیرہ موجود ہے یہ سب انسان کے لئے جسمانی خدمات میں لگے ہوئے ہیں اورطرح طرح کے جسمانی نقصانوں اور حرجوں اور تکلیفوں اور تنگیوں سے بچاتے ہیں اور اُس کے جسم اور جسمانی قویٰ کے کلّ ما یحتاج کو طیار کرتے ہیں خاص کر رات کے وقت جو ستارے پیدا ہوتے ہیں جنگلوں اور بیابانوں میں چلنے والے اور سمندروں کی سَیر کرنے والے اُن چمکدار ستاروں سے بڑا ہی فائدہ اٹھاتے ہیں اوراندھیری رات کے وقت میں ہر یک نجم ثاقب رہنمائی کر کے جان کی حفاظت کرتا ہے اور اگر یہ محافظ نہ ہوں جو اپنے اپنے وقت میں شرط حفاظت بجا لا رہے ہیں تو انسان ایک طرفۃ العین کے لئے بھی زندہ نہ رہ سکے سوچ کر جواب دینا چاہیئے کہ کیا ہم بغیر اُن تمام محافظوں
آیت 3 کی تفسیر
خداتعالیٰ کا جسمانی انتظام تقاضا کرتا ہے کہ روحانی انتظام
بھی ایسا ہی ہو کیونکہ ان دونوں انتظاموں کا مبدا ایک ہی ہے۔
المجادلۃ: