تو خدؔ اتعالیٰ تمہیں وہ چیز عطا کرے گا (یعنی روح القدس) جس کے ساتھ تم غیروں سے امتیاز کُلّی پیدا کر لو گے۔ اور تمہارے لئے ایک نور مقرر کر دے گا ( یعنی روح القدس) جو تمہارے ساتھ ساتھ چلے گا۔ قرآن کریم میں روح القدس کا نام ُ نور ہے۔ پھر ایک دوسرے مقام میں فرماتا ہے ۔ 33 3333333۔۱؂ یعنی جو لوگ کہتے ہیں کہ ہمارا رب اللہ جلّ شانہٗ ہے پھر اپنی ثابت قدمی دکھلاتے ہیں کہ کسی مصیبت اور آفت اور زلزلہ اور امتحان سے اُن کے صدق میں ذرّہ فرق نہیں آتا اُن پر فرشتے اترتے ہیں یہ کہتے ہوئے کہ تم ذرا خوف نہ کرو اور نہ غمگین ہو۔ اور اُس بہشت کے تصور سے شادان اور فرحان رہو جس کا تمہیں وعدہ دیا گیا ہے ہم تمہارے متولّی اور تمہارے پاس ہر وقت حاضر اور قریب ہیں کیا دنیا میں قدرت کے بدیہات کی شہادت اپنی شریعت کے بعض دقائق حل کرنے کے لئے پیش کرتا ہے۔ تا قانونِ قدرت جو خداتعالیٰ کی ایک فعلی کتاب ہے اس کی قولی کتاب پر شاہد ہو جائے اور تا اس کے قول اور فعل کی باہم مطابقت ہو کر طالب صادق کے لئے مزید معرفت اور سکینت اور یقین کا موجب ہو اور یہ ایک عام طریق اللہ جلّ شانہٗ کا قرآن کریم میں ہے کہ اپنے افعال قدرتیہ کوجو اُس کی مخلوقات میں باقاعدہ منضبط اور مترتب پائے جاتے ہیں اقوال شرعیہ کے حل کرنے کے لئے جا بجا پیش کرتا ہے تا اِس بات کی طرف لوگوں کو توجہ دلاوے کہ یہ شریعت اور یہ تعلیم اُسی ذات واحدلاشریک کی طرف سے ہے جس کے ایسے افعال موجود ہیں جو اُس کے اِن اقوال سے مطابقت کلّی رکھتے ہیں کیونکہ اقوال کا افعال سے مطابق آ جانا بلاشبہ اِس بات کا ایک ثبوت ہے کہ جس کے یہ افعال ہیں اُسی کے یہ اقوال ہیں۔ اب ہم نمونہ کے طور پر اُن چند قسموں کی تفسیر لکھتے ہیں جو قرآن کریم میں اس بات کا بیان کہ جب انسان کامل ایمان اور کامل استقامت کو پہنچ جاتا ہے تو فرشتے اس پر اترتے ہیں اور دائمی مصاحبت اختیار کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کے تمام کاروبار میں اُس کے خادم ہوتے ہیں۔ خدا تعالیٰ نے جو قرآن کریم میں اپنی بعض مخلوقات کی قسمیں کھائی ہیں ان میں ایک بڑا بھاری بھید یہ بھی ہے کہ تا انسان کو اس طرف توجہ پیدا ہو کہ یہ تمام اقوال اور افعال ایک ہی چشمہ میں سے ہیں