ایسیؔ دب جاتی ہے کہ گویا اُس کا کچھ بھی وجود نہیں۔ یاد رکھنا چاہیے کہ گروہ تین ہیں جیسا کہ اللہ جلّ شانہ‘ فرماتا ہے 33۔ ۱؂ یعنی ایک وہ گروہ ہے جن پر شیطانی ظلمت غالب ہے اور روح القدس کی چمک کم ہے۔اور دوسرے وہ گروہ ہے جو روح القدس کی چمک اور شیطانی ظلمت اُن میں مساوی ہیں اور تیسری وہ گروہ ہے جن پر روح القدس کی چمک غالب آ گئی ہے اور خیر محض ہو گئی ہیں۔ روح القدس کے بارہ میں جو قرآن کریم میں آیات ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمیشہ کے لئے کامل مومنوں کو روح القدس دیا جاتا ہے منجملہ ان کے ایک یہ آیت ہے 333 ۲؂ 3۳؂ یعنی اَے وَے لوگو جو ایمان لائے ہو اگر تم تقویٰ اختیار کرو اور اللہ جلّ شانہٗ سے ڈرتے رہو قرآن کریم میں پیش کیا اور اس کی نسبت یہ نہیں کہہ سکتے کہ اُس نے غیراللہ کی قسم کھائی ۔ کیونکہ وہ درحقیقت اپنے افعال کی قسم کھاتا ہے نہ کسی غیر کی اور اُس کے افعال اُس کے غیر نہیں ہیں مثلًا اُس کا آسمان یا ستارہ کی قسم کھانا اس قصد سے نہیں ہے کہ وہ کسی غیر کی قسم ہے بلکہ اِس نیت سے ہے کہ جو کچھ اُس کے ہاتھوں کی صنعت اور حکمت آسمان اور ستاروں میں موجود ہے اس کی شہادت بعض اپنے افعال مخفیہ کے سمجھانے کے لئے پیش کرے۔سو درحقیقت خداتعالیٰ کی اِس قسم کی قسمیں جو قرآن کریم میں موجود ہیں بہت سے اسرار معرفت سے بھری ہوئی ہیں اور جیسا کہ مَیں ابھی بیان کر چکا ہوں۔ قسم کی طرز پر ان اسرار کا بیان کرنا محض اِس غرض سے ہے کہ قَسم درحقیقت ایک قِسم کی شہادت ہے جو شاہد رویت کے قائم مقام ہو جاتی ہے اسی طرح خداتعالیٰ کے بعض افعال بھی بعض دوسرے افعال کے لئے بطور شاہد کے واقعہ ہوئے ہیں سو اللہ تعالیٰ قسم کے لباس میں اپنے قانونِ قرآن کریم میں بہت سی ایسی آیات ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ کامل مومنوں کو ہمیشہ کے لئے روح القد س دیا جاتا ہے۔ خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں جس قدر قسمیں کھائی ہیں اُن سے یہ مطلب ہے کہ تا اپنے اقوال پر اپنے قانون قدرت کی شہادت پیش کرے یا بدیہی اور مسلم کے ذریعہ سے نظری اور غیر مسلم کی حقانیت کھول دے۔ ۱؂ فاطر:۳۳ ۲؂ الانفال:۳۰ ۳؂ الحدید: