حملہ ؔ کرے کا موقعہ دے دیا۔ اگر یہ لوگ اِس بات کو قبول کر لیتے کہ کوئی فرشتہ بذاتِ خود ہرگزنازل نہیں ہوتا بلکہ اپنے ظلّی وجود سے نازل ہوتا ہے جس کے تمثّل کی اس کو طاقت دی گئی ہے جیسا کہ دحیہ کلبی کی شکل پر حضرت جبرائیل متمثل ہو کر ظاہر ہوتے تھے اور جیسا کہ حضرت مریم کے لئے فرشتہ متمثل ہوا تو کوئی اعتراض پیدا نہ ہوتا اور دوام نعم القرین پر کوئی شخص جرح نہ کر سکتا اور تعجب تو یہ ہے کہ ایسا خیال کرنے میں قرآنِ کریم اور احادیث صحیحہ سے بالکل یہ لوگ مخالف ہیں قرآن کریم ایک طرف تو ملایک کے قرار اور اثبات کی جگہ آسمان کو قرار دے رہا ہے اور ایک طرف یہ بھی بڑے زور سے بیان فرما رہا ہے کہ روح القدس کامل مومنوں کو تائید کے لئے دائمی طور پر عطا کیا جاتا ہے اوراُن سے الگ نہیں ہوتا گو ہر یک شخص اپنے فطرتی نور کی وجہ سے کچھ نہ کچھ روح القدس کی چمک اپنے اندر رکھتا ہے مگر وہ چمک عام لوگوں میں شیطانی ظلمت کے نیچے آ جاتی اور
تمام کتابوں میں انسان کیلئے یہی تعلیم ہے کہ غیراللہ کی ہرگز قسم نہ کھاوے۔
اب ظاہر ہے کہ خداتعالیٰ کی قسموں کا انسان کی قسموں کے ساتھ قیاس درست نہیں ہو سکتا کیونکہ خداتعالیٰ کو انسان کی طرح کوئی ایسی مشکل پیش نہیں آتی کہ جو انسان کو قسم کے وقت پیش آتی ہے بلکہ اُس کا قسم کھانا ایک اور رنگ کا ہے جو اُس کی شان کے لائق اور اُس کے قانونِ قدرت کے مطابق ہے اور غرض اُس سے یہ ہے کہ تا صحیفہ قدرت کے بدیہات کو شریعت کے اسرار دقیقہ کے حل کرنے کے لئے بطور شاہد کے پیش کرے اور چونکہ اِس مدعا کو قسم سے ایک مناسبت تھی اور وہ یہ کہ جیسا ایک قسم کھانے والا جب مثلًاخداتعالیٰ کی قسم کھاتا ہے تو اس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ خداتعالیٰ میرے اِس واقعہ پرگواہ ہے اِسی طرح خداتعالیٰ کے بعض کُھلے کُھلے افعال بعض چُھپے ہوئے افعال پر گواہ ہیں اِس لئے اس نے قسم کے رنگ میں اپنے افعال بدیہیہ کو اپنے افعال نظریہ کے ثبوت میں جا بجا
خداتعالیٰ کی قسموں کی حقیقت اور وہ معرفت کا دقیقہ جو ان قسموں میں چھپا ہوا ہے