و رحیمؔ کی نسبت یہ تجویز کرنا جائز ہے کہ وہ انسان کی تباہی کو بہ نسبت اُس کے ہدایت پانے کے زیادہ چاہتا ہے نعوذ باللہ ہرگز نہیں نابینا آدمی قرآن کریم کی تعلیم کو سمجھتا نہیں اس لئے اپنی نادانی کا الزام اس پر لگا دیتا ہے۔ یہ تمام بلائیں جن سے نکلنا کسی طور سے ان علماء کے لئے ممکن نہیں اسی وجہ سے ان کو پیش آ گئیں کہ انہوں نے یہ خیال کیا کہ ملایک اپنے اصلی وجود کے ساتھ زمین پر نازل ہوتے ہیں اور پھر یہ بھی ضروری عقیدہ تھا کہ وہ بلا توقف آسمان پر چڑھ بھی جاتے ہیں۔ اِن دونوں غلط عقیدوں کے لحاظ سے یہ لوگ اِس شکنجہ میں آ گئے کہ اپنے لئے یہ تیسرا عقیدہ بھی تراش لیا کہ بئس القرین کے مقابل پر کوئی ایسا نعم القرین انسان کو نہیں دیا گیا جو ہر وقت اس کے ساتھ ہی رہے۔ پس اِس عقیدہ کے تراشنے سے قرآنی تعلیم پر اُنہوں نے سخت تہمت لگائی اور بد اندیش مخالفوں کو
سو درحقیقت یہ دو۲ اعتراض ہیں جو ایک دوسرے سے تعلق رکھتے ہیں اور بوجہ ان کے باہمی تعلقات کے ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ اِن کے جوابات ایک ہی جگہ بیان کئے جائیں۔
سو اوّل قسم کے بارے میں خوب یاد رکھنا چاہیئے کہ اللّٰہ جلّ شانہٗ کی قَسموں کا انسانوں کی قسموں پر قیاس کر لینا قیاس مع الفارق ہے خداتعالیٰ نے جو انسان کو غیر اللہ کی قسم کھانے سے منع کیا ہے تو اِس کا سبب یہ ہے کہ انسان جب قسم کھاتا ہے تو اِس کا مدعا یہ ہوتا ہے کہ جس چیز کی قسم کھائی ہے اس کو ایک ایسے گواہ رویت کا قائم مقام ٹھہراوے کہ جواپنے ذاتی علم سے اس کے بیان کی تصدیق یا تکذیب کر سکتا ہے کیونکہ اگر سوچ کر دیکھو تو قسم کااصل مفہوم شہادت ہی ہے۔ جب انسان معمولی شاہدوں کے پیش کرنے سے عاجز آ جاتا ہے تو پھر قسم کا محتاج ہوتا ہے تا اُس سے وہ فائدہ اٹھاوے جو ایک شاہد رویت کی شہادت سے اُٹھانا چاہیئے لیکن یہ تجویز کرنا یا اعتقاد رکھنا کہ بجُز خداتعالیٰ کے اور بھی حاضر ناظر ہے اور تصدیق یا تکذیب یا سزادہی یا کسی اور امر پر قادر ہے صریح کلمہ کُفر ہے اِس لئے خداتعالیٰ کی
بطالوی اور دہلوی نے اول یہ غلطی کی کہ ملایک کے لئے ان کے اصلی وجود کے ساتھ نزول و صعود ضروری ٹھہرا لیا پھر اس غلطی کی شامت سے یہ بھی انہیں ماننا پڑا کہ روح القدس ہمیشہ ملہموں کے ساتھ نہیں رہتا۔