اپنےؔ اصلی وجود کے ساتھ آنا بھی ضروری خیال کرتے ہیں اور ایسا ہی پھر آسمان پر اُن کا اپنے اصلی وجود کے ساتھ چڑھ جانا بھی اپنے زعم میں یقینی اعتقاد رکھتے ہیں اور اگر کوئی اصلی وجود کے ساتھ اترنے یا چڑھنے سے انکار کرے تو وہ اُن کے نزدیک کافر ہے ان عجیب مسلمانوں کے عقیدہ کو یہ بلا لازم پڑی ہوئی ہے کہ وہ اعتدالی نظام جس کا ہم ابھی ذکر کر چکے ہیں یعنی بد قرین کے مقابل پر نیک قرین کا دائمی طور پر انسان کے ساتھ رہنا ایسے اعتقاد سے بالکل درہم برہم ہو جاتا ہے اور صرف شیطان ہی دائمی مصاحب انسان کا رہ جاتا ہے کیونکہ اگر فرشتہ روح القدس کسی پر مسافر کی طرح نازل بھی ہوا تو بموجب ان کے عقیدہ کے ایک دم یا کسی اور بہت تھوڑے عرصہ کے لئے آیا اور پھر اپنے اصلی وطن آسمان کی طرف پرواز کر گیا اور انسان کو گو وہ کیسا ہی نیک ہو شیطان کی صحبت میں چھوڑ گیا۔ کیا یہ ایسا اعتقاد نہیں جس سے اِسلام کو سخت دھبہ لگے کیا خداوند کریم ہمیشہ اور ہر وقت اُن کے ساتھ ہوتا ہے پھر امام المعصومین اور امام المتبرکین اور سیّد المقربین کی نسبت کیونکر خیال کیا جائے کہ نعوذ باللہ کسی وقت ان تمام برکتوں اور پاکیزگیوں اور روشنیوں سے خالی رہ جاتے تھے افسوس کہ یہ لوگ حضرت عیسیٰ کی نسبت یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ تینتیس برس روح القدس ایک دم کے لئے بھی اُن سے جدا نہیں ہوا مگر اس جگہ اس قُرب سے منکر ہیں۔ ازانجملہ ایک یہ اعتراض ہے کہ سورۃ والطارق میں خداتعالیٰ نے غیراللہ کی قسم کیوں کھائی حالانکہ آپ ہی فرماتا ہے کہ بجُز اس کے کسی دوسرے کی قسم نہ کھائی جائے نہ انسان نہ آسمان کی نہ زمین نہ کسی ستارہ کی نہ کسی اور کی اور پھر غیر کی قسم کھانے میں خاص ستاروں اور آسمان کی قسم کی خداتعالیٰ کو اس جگہ کیا ضرورت آپڑی بطالوی اور دہلوی کا یہ عقیدہ کہ دائمی قرین انسان کے لئے صرف شیطان ہے و بس۔ خدا تعالیٰ کے اعتدالی نظام کو جو انسان کی تربیت کے متعلق ہے برباد اور درہم برہم کرتا ہے۔ اس اعتراض کا جواب کہ خداتعالیٰ نے قرآن کریم میں غیراللہ کی قسمیں کیوں کھائیں۔