کے ؔ لئے ہمیشہ اور ہر دم کے لئے اُس کا قرین اور مصاحب مقرر کرے تا وہ اُس کے ایمان کی بیخ کنی کے فکر میں رہیں اور ہر وقت اُس کے خون اور اُس کے دل اور دماغ اور رگ و ریشہ میں اور آنکھوں اور کانوں میں گھس کر طرح طرح کے وساوس ڈالتے رہیں۔ اور ہدایت کرنے کا ایسا قرین جو ہر دم انسان کے ساتھ رہ سکے ایک بھی انسان کو نہ دیا جائے۔ یہ اعتراض درحقیقت اُن کے عقیدہ مذکورہ بالا سے پیدا ہوتا ہے کیونکہ ایک طرف تو یہ لوگ بموجب آیت 3 ۱؂ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت جبرائیل اور عزرائیل یعنی ملک الموت کا مقام آسمان پر مقرر ہے جس مقام سے وہ نہ ایک بالشت نیچے اُتر سکتے ہیں نہ ایک بالشت اُوپر چڑھ سکتے ہیں اور پھر باوجود اس کے اُن کا زمین پر ن دونوں حضرتوں کے نزدیک قابلِ اعتبار نہیں ہوں گی کیونکہ وحی کی روشنی سے خالی ہیں اور اُن کے نزدیک اُن دنوں میں خوابوں کا سلسلہ بھی بکلّی بند تھا۔ اب منصفو دیکھو کہ کیا اِن دونوں شیخوں کی بے ادبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت انتہا کو پہنچ گئی یا نہیں وہ آفتابِ صداقت جس کا کوئی دل کا خطرہ بھی بغیر وحی کی تحریک کے نہیں اُس کے بارے میں اِن لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ گویا وہ نعوذ باللہ مدتوں ظلمت میں بھی پڑا رہتا تھا اور اُس کے ساتھ کوئی روشنی نہ تھی۔ اِس عاجز کو اپنے ذاتی تجربہ سے یہ معلوم ہے کہ رُوح القدس کی قدسیّت ہر وقت اور ہر دم اور ہر لحظہ بلا فصل ملہم کے تمام قُویٰ میں کام کرتی رہتی ہے اور وہ بغیر روح القدس اور اس کی تاثیر قدسیّت کے ایک دم بھی اپنے تئیں ناپاکی سے بچا نہیں سکتا اور انوار دائمی اور استقامت دائمی اور محبت دائمی اور عصمت دائمی اور برکات دائمی کا بھی سبب ہوتا ہے کہ روح القدس بطالوی اور شیخ دہلوی نے آنحضرت صلعم کی جناب میں سخت بے ادبی کی ہے کہ آنحضرت صلعم کا روح القدس سے بعض اوقات میں بکلی علیحدہ ہونا تجویز کیا ہے مگر حضرت عیسیٰ کی نسبت یہ تجویز نہیں کیاا ن کے علم اور معرفت کا ایک نمونہ ہے۔ ۱؂ الصافات :