اِسؔ بات پر اصرار کیا کہ ضرور جبرائیل اور ملک الموت اور دوسرے فرشتے اپنے اصلی وجود کے ساتھ ہی زمین پر نازل ہوتے ہیں اور پھر تھوڑی دیر رہ کر آسمان پر چلے جاتے ہیں۔ جب آسمان سے اُترتے ہیں تو آسمان اُن کے وجود سے خالی رہ جاتا ہے اور پھر جب زمین سے آسمان کی طرف پرواز کرتے ہیں تو زمین اُن کے وجود سے خالی رہ جاتی ہے تو صدہا اعتراض قرآن اور حدیث اور عقل کے اُن پر وارد ہوئے چنانچہ منجملہ اُن بلاؤں کے جو اِن کے اس عقیدہ کے لازم حال ہو گئیں ایک یہ بھی بلا ہے جو خداتعالیٰ کے روحانی انتظام کا عدل اور رحم جاتا رہا اور کفّار اور تمام مخالفین کو اِسلام پر یہ اعتراض کرنے کے لئے موقعہ ملا کہ یہ کیسی سخت دلی اور خلاف رحم بات ہے کہ خداتعالیٰ شیطان اور اُس کی ذُرّیت کو انسان کی اغوا
ہو رہی ہے اس کی نسبت کیا ہم خیال کر سکتے ہیں کہ وہ مدتوں نور وحی سے بکلّی خالی ہی رہ جاتا تھا۔ مثلًا یہ جو منقول ہے کہ بعض دفعہ چالیس دن اور بعض دفعہ بیس دن اور بعض دفعہ اس سے زیادہ ساٹھ دن تک بھی وحی نازل نہیں ہوئی۔ اگر اس عدم نزول سے یہ مُراد ہے کہ فرشتہ جبرائیل بکلّی آنحضرت صلعم کو اِس عرصہ تک چھوڑ کر چلا گیا تو یہ سخت اعتراض پیش آئے گا کہ اس مدت تک جس قدر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے باتیں کیں کیا وہ احادیث نبویہ میں داخل نہیں تھیں اور کیا وحی غیر متلوّ اُن کا نام نہیں تھااور کیا اِس عرصہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی خواب بھی نہیں آتی تھی جو بلا شبہ وحی میں داخل ہے اور اگر حضرت بٹالوی صاحب اور میاں نذیر حسین دہلوی سچے ہیں اور یہ بات صحیح ہے کہ ضرور مدتوں جبرائیل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر بھی چلا جاتا تھا اور آنحضرت بکلّی وحی سے خالی رہ جاتے تھے تو بلاشبہ اُن دنوں کی احادیث
بطالوی اور نذیر حسین نے عیسائیوں وغیرہ کو اسلام پر اعتراض
کرنے کا موقعہ دے دیا اور اپنی سمجھ کے نقص کو اسلام پر تھاپا۔
اگر ہمارے نبی صلعم چالیس دن یا زیادہ دنوں تک روح القدس سے بکلی مہجور ہوتے تھے تو
ان مدتوں کے کلمات احادیث میں داخل نہیں ہونے چاہیئے نہ ان کو الہامی کہنا چاہیئے۔